ملائیشیا میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے فروغ کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے غیر ہنر مند ...
ملائیشیا میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے فروغ کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے غیر ہنر مند غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کم کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث صنعتی شعبے میں ہنر مند افرادی قوت کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
ملائیشین ایمپلائرز فیڈریشن کے صدر سید حسین سید حسن نے کہا ہے کہ ٹی وی ای ٹی کے نظام میں سرمایہ کاری کو قومی مسابقتی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کے دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقامی افرادی قوت کو جدید مہارتوں سے لیس نہ کیا گیا تو سرمایہ کار ہمسایہ ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “جب صنعتی پیداوار میں آٹومیشن بڑھتی ہے تو کم مہارت والے مزدوروں کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ ہائی ٹیک مشین آپریٹرز، ٹیکنیشنز اور سسٹم مینٹیننس کے ماہرین کی طلب بڑھ جاتی ہے۔” ان کے مطابق، ٹی وی ای ٹی کی کامیابی نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ کرے گی بلکہ بہتر تنخواہوں اور عالمی معاشی جھٹکوں کے خلاف مزاحمت کو بھی مضبوط بنائے گی۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی مزدوروں پر انحصار فوری طور پر ختم نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہوگا۔ کچھ شعبے، خاص طور پر وہ کام جو خطرناک، مشکل یا کم پسندیدہ (3 ڈی جابز) ہوتے ہیں، اب بھی عمومی مزدوروں کے محتاج رہیں گے۔
ادھر بیلیا ماہر کے صدر محمد رضان حسن نے کہا کہ نوجوانوں میں ٹی وی ای ٹی کے حوالے سے دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر جب انہیں جدید صنعتوں میں واضح کیریئر کے مواقع نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اب روایتی ڈگری کے بجائے مہارت پر مبنی تعلیم کو بھی اہمیت دینے لگے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “اگرچہ ابتدائی تنخواہ ہر شعبے میں 3500 رنگٹ نہیں ہوتی، لیکن مہارت اور پیداوار میں اضافے کے ساتھ یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔” ان کے مطابق، والدین کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ ٹی وی ای ٹی گریجویٹس اب الیکٹرک وہیکل، سیمی کنڈکٹر، اور آٹومیشن جیسے اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ملائیشیا کے نئے صنعتی ماسٹر پلان این آئی ایم پی 2030 کے تحت ٹیکنالوجی اپنانے، گرین انرجی کی طرف منتقلی، اقتصادی سلامتی کو یقینی بنانے اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ وزارت سرمایہ کاری، تجارت و صنعت کی قیادت میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے مالی سال 2026 کے بجٹ میں ٹی وی ای ٹی کے لیے فنڈز بڑھا کر 7.9 ارب رنگٹ کر دیے ہیں، جو گزشتہ سال 7.5 ارب رنگٹ تھے۔ اس اضافے کا مقصد مقامی ہنر مند افرادی قوت کو فروغ دینا اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت فراہم کرنا ہے۔ مزید برآں، 180 ملین رنگٹ نیشنل انڈسٹریل ڈیولپمنٹ فنڈ کے لیے جبکہ 5.9 ارب رنگٹ علاقائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹی وی ای ٹی نظام میں بہتری آ رہی ہے، لیکن اب بھی معاشرے میں اسے “دوسرے درجے” کی تعلیم سمجھنے کا تاثر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کامیاب افراد کی مثالیں اور عملی نتائج عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔
مجموعی طور پر، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹی وی ای ٹی نہ صرف معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد دے گا بلکہ مقامی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرے گا، جس سے طویل المدتی بنیادوں پر غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کم ہو جائے گا۔

COMMENTS