کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جعلی شناختی کارڈ استعمال کرنے کے سنگین کیس میں تین افراد کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جعلی شناختی کارڈ استعمال کرنے کے سنگین کیس میں تین افراد کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد جیل بھیج دیا گیا، جبکہ پولیس نے اس واقعے سے متعلق مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لیں۔
پولیس کے مطابق، یہ تینوں افراد ان 18 مشتبہ “اُلت فوٹو” (سڑک کنارے تصاویر لینے والے افراد) میں شامل تھے جنہیں اس سے قبل ایک پرتشدد واقعے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ سازالی آدم، جو ضلع ڈانگ وانگی کے پولیس چیف ہیں، نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ان افراد کے پاس موجود شناختی کارڈز پر شبہ ہوا، جس کے بعد معاملہ جباتن پیندافترن نگارا (جے پی این) کے سپرد کیا گیا۔
انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا،
“تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تینوں افراد کے پاس بظاہر مائی کارڈ موجود تھے، لیکن جب ان کے فنگر پرنٹس کی تصدیق کی گئی تو ان کی شناخت جے پی این کے ریکارڈ میں موجود نہیں تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کارڈز جعلی تھے۔”
پولیس کے مطابق، ان تینوں افراد کے پاس کوئی مستند سفری یا قانونی دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں، جس کے باعث ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت کارروائی کی گئی۔ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے الزامات سے انکار کیا، تاہم عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر سنگائی بولوہ جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ واقعہ دراصل 22 مارچ کو پیش آنے والے ایک پرتشدد حملے سے جڑا ہوا ہے، جہاں کوالالمپور کے مشہور علاقے کے ایل سی سی میں رات تقریباً 9 بجے کچھ افراد نے ایک بھارتی سیاح کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق مبینہ طور پر انہی اسٹریٹ فوٹوگرافروں کے گروہ سے تھا جو سیاحوں سے تصاویر لے کر رقم وصول کرتے ہیں۔
مزید تحقیقات کے دوران پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے 25 مزید افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک خاتون اور ایک فلپائنی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، ان تمام افراد سے واقعے کے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث گروہ نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ خاص طور پر جعلی شناختی دستاویزات کا استعمال ایک سنگین جرم ہے جس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس کیس میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ ساتھ ہی شہریوں اور سیاحوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر مجاز افراد سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

COMMENTS