کولم: ملائیشیا کے شہر کولم میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر قانونی پلاسٹک ویسٹ پروسیسنگ فیکٹری پر چھاپہ مار کر 7 افراد کو گ...
کولم: ملائیشیا کے شہر کولم میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر قانونی پلاسٹک ویسٹ پروسیسنگ فیکٹری پر چھاپہ مار کر 7 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں 6 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ کروڑوں مالیت کی مشینری اور سامان قبضے میں لے لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی پاسوکان جیرکان عام کی بریگیڈ شمالی یونٹ نے محکمہ ماحولیات کے تعاون سے کی۔ آپریشن مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 3 بجے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک مقامی شخص سمیت 6 غیر ملکی افراد (بنگلہ دیش اور نیپال سے تعلق رکھنے والے) کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ہونے والا 35 سالہ مقامی شخص اس غیر قانونی فیکٹری کا نگران تھا، جبکہ دیگر افراد وہاں مزدور کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فیکٹری گزشتہ 9 سال سے بغیر کسی سرکاری اجازت کے کام کر رہی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں کچا اور تیار شدہ پلاسٹک مواد برآمد ہوا، جبکہ پلاسٹک کو پروسیس کرنے والی کئی جدید مشینیں بھی ضبط کی گئیں۔ اس کے علاوہ تین فورک لفٹ مشینیں بھی تحویل میں لی گئیں، اور مجموعی طور پر ضبط شدہ سامان کی مالیت 20 ملین رنگٹ سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
پی جی اے بریگیڈ شمالی کے کمانڈر ایس اے سی بلویئر سنگھ مہندر سنگھ نے بتایا کہ فیکٹری میں نصب تمام مشینری بغیر کسی منظوری کے چلائی جا رہی تھی اور متعلقہ ادارے کو اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرگرمی نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ماحول کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس فیکٹری میں پلاسٹک ویسٹ کو پروسیس کر کے پلاسٹک دانے تیار کیے جاتے تھے، جنہیں بعد میں بیرون ملک برآمد کیا جاتا تھا۔ خام پلاسٹک مواد کا بڑا حصہ کلانگ ویلی کے مختلف علاقوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔
قانونی کارروائی کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ مقامی شخص کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 55B کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ اس پر غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے کا الزام ہے۔ جبکہ غیر ملکی افراد کے خلاف امیگریشن ریگولیشن 1963 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
مزید برآں، کیس کو محکمہ ماحولیات کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ماحولیاتی قوانین کے تحت بھی تحقیقات کی جا سکیں۔ حکام کے مطابق فیکٹری کے خلاف ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ جمع نہ کروانے پر ماحولیاتی کوالٹی ایکٹ 1974 کی دفعہ 34 اے کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔
غیر قانونی پلاسٹک ری سائیکلنگ فیکٹریاں ماحولیاتی آلودگی، فضائی معیار میں کمی اور انسانی صحت کے لیے شدید خطرات کا باعث بنتی ہیں۔ ملائیشیا میں حالیہ برسوں میں اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے تاکہ غیر قانونی صنعتوں کو ختم کیا جا سکے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

COMMENTS