کوالالمپور: پیٹروناس ٹوئن ٹاورز (کے ایل سی سی) کے اطراف غیر قانونی فوٹوگرافروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے مقامی شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں می...
کوالالمپور: پیٹروناس ٹوئن ٹاورز (کے ایل سی سی) کے اطراف غیر قانونی فوٹوگرافروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے مقامی شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوامی شکایات کے مطابق، یہ افراد جارحانہ انداز میں تصاویر لینے کی پیشکش کرتے ہیں، جس سے نہ صرف لوگوں کو ذہنی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ سیکیورٹی خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، یہ سرگرمیاں خاص طور پر شام اور رات کے اوقات میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں، جب سیاحوں کی بڑی تعداد کے ایل سی سی کا رخ کرتی ہے۔ متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ غیر رجسٹرڈ فوٹوگرافرز زبردستی خدمات پیش کرتے ہیں اور بعض اوقات گاہکوں کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے جھگڑ پڑتے ہیں۔
41 سالہ مقامی شہری محمد ازوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “میں گزشتہ 16 برس سے کوالالمپور میں رہ رہا ہوں اور اکثر کے ایل سی سی آتا ہوں، مگر اب یہاں کا ماحول پہلے جیسا نہیں رہا۔ ان فوٹوگرافروں کی بار بار پیشکش اور اصرار سے بے چینی محسوس ہوتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس علاقے میں مستقل نگرانی کریں اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کریں تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔
ایک اور واقعے میں، 22 مارچ کو کے ایل سی سی کے قریب جھگڑے کے دوران 18 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کی عمریں 17 سے 45 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب ایک غیر ملکی سیاح سے تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ ایک مقامی شہری، جو جھگڑا ختم کروانے کی کوشش کر رہا تھا، اس پر بھی پیچھے سے حملہ کیا گیا اور اسے مبینہ طور پر چاقو سے زخمی کیا گیا۔
ہنا یئو، جو وزیرِ اعظم کے دفتر میں وفاقی علاقوں کی وزیر ہیں، نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کے ایل سی سی کے اطراف مزید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، حکومت کوالالمپور سٹی ہال اور کے ایل سی سی پراپرٹی ہولڈنگز کے ساتھ مل کر سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرے گی۔
انہوں نے کہا، “ہم سیاحوں اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نگرانی کے اقدامات کر رہے ہیں۔ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔”
برازیل سے تعلق رکھنے والے سیاح، ٹوماس ازیوڈو، نے بھی اپنے تاثرات میں کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اس طرح کی سرگرمیاں دیکھی جاتی ہیں، مگر انہیں باقاعدہ اور شفاف ہونا چاہیے۔ “یہ جگہ بہت خوبصورت ہے، لیکن یہاں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں،” انہوں نے کہا۔
حالیہ مہینوں میں غیر قانونی فوٹوگرافی سے متعلق کئی کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں گرفتاریاں اور سامان ضبطی بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی تاکہ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق، کے ایل سی سی جیسے عالمی شہرت یافتہ مقام پر اس نوعیت کی غیر قانونی سرگرمیاں نہ صرف سیاحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تیزی سے بڑھتی سیاحتی سرگرمیوں کے ساتھ سیکیورٹی اور ریگولیشن کا نظام بھی مضبوط ہونا چاہیے، تاکہ عوام کو محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

COMMENTS