کوالالمپور: ملائیشیا حکومت نے سبسڈی والے پیٹرول رون 95 کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یکم اپریل 2026...
کوالالمپور: ملائیشیا حکومت نے سبسڈی والے پیٹرول رون 95 کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یکم اپریل 2026 سے غیر ملکی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے پیٹرول پمپس پر رون 95 خریدنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حکومتی سبسڈی سے صرف مقامی شہری ہی مستفید ہوں اور غیر ملکی افراد اس سہولت کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی کارڈز کے ذریعے ادائیگی صرف کاؤنٹر پر ممکن ہوگی، جبکہ پمپ پر براہ راست ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں سستے ایندھن کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں قیمتوں کا واضح فرق موجود ہے، جس کے باعث اسمگلنگ اور غیر قانونی خریداری کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس سے قبل غیر ملکی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے لیے رون 95 خریدنے پر پابندی عائد کی جا چکی تھی، تاہم پمپ پر کارڈ کے ذریعے ادائیگی کے نظام نے اس پابندی کو جزوی طور پر غیر مؤثر بنا دیا تھا کیونکہ بعض صارفین اس نظام کو بائی پاس کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔
اب نئی پالیسی کے تحت اس خلا کو مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ سبسڈی شدہ ایندھن کی غیر قانونی خریداری کو روکا جا سکے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یکم اپریل سے نہ صرف پٹرول اسٹیشن مالکان بلکہ غیر ملکی ڈرائیورز اور گاڑی مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی اگر وہ رون 95 خریدنے کی کوشش کرتے پائے گئے۔
اس سے قبل صرف اسٹیشن آپریٹرز کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا، تاہم اب قانون کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو براہ راست جوابدہ بنایا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ (ویسٹ ایشیا) میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ملائیشیا چونکہ اپنے شہریوں کو سبسڈی فراہم کرتا ہے، اس لیے یہاں رون 95 کی قیمت دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، جس نے سرحد پار ایندھن کی اسمگلنگ کو فروغ دیا۔
حکومت نے حال ہی میں بودی 95 اسکیم کے تحت ماہانہ کوٹے میں بھی کمی کر دی ہے۔ پہلے یہ کوٹہ 300 لیٹر تھا، جسے کم کر کے 200 لیٹر کر دیا گیا ہے تاکہ ایندھن کے استعمال کو بہتر طریقے سے منظم کیا جا سکے اور غیر ضروری کھپت کو روکا جا سکے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طویل المدتی طور پر ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے سبسڈی کا بوجھ کم ہوگا اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔
تاہم، کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے سرحدی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے، جہاں غیر ملکی گاڑیوں کی آمدورفت زیادہ ہوتی ہے۔

COMMENTS