بکیت مرتجم: ملائیشیا کی ریاست پینانگ کے علاقے بکیت مرتجم میں ایک غیر ملکی مزدور چھ دن تک زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد دم توڑ گیا، جو چند روز قبل...
بکیت مرتجم: ملائیشیا کی ریاست پینانگ کے علاقے بکیت مرتجم میں ایک غیر ملکی مزدور چھ دن تک زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد دم توڑ گیا، جو چند روز قبل ایک تعمیراتی سائٹ پر پیش آنے والے خطرناک حادثے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ 19 مارچ کو صبح تقریباً 10:40 بجے تامان پرنڈسٹرین بکیت منیاک کے ایک تعمیراتی منصوبے میں پیش آیا، جہاں متاثرہ مزدور ایک سب کنٹریکٹر کمپنی کے تحت کام کر رہا تھا اور چھت کی تنصیب میں مصروف تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مزدور پر پلائی ووڈ کا بوجھ گر گیا جو کرین کے ذریعے اوپر اٹھایا جا رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ بوجھ اچانک اپنی گرفت سے نکل کر نیچے آ گرا، جس کے نتیجے میں مزدور شدید زخمی ہو گیا اور تقریباً 6 میٹر کی بلندی سے نیچے گر پڑا۔
زخمی حالت میں مزدور کو فوری طور پر ہسپتال سیبرانگ جایا منتقل کیا گیا، جہاں وہ چھ دن تک زیر علاج رہا، تاہم 24 مارچ کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
ریاست پینانگ کے محکمہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ (جے کے کے پی) کے مطابق یہ حادثہ کام کی جگہ پر حفاظتی انتظامات میں سنگین ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
محکمہ نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ تعمیراتی سائٹ پر کام روکنے کا حکم جاری کیا اور “نوٹس آف پروہیبیشن” کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی جاری کیں تاکہ تمام حفاظتی تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا کہ، “کام کی جگہ پر کسی بھی قسم کی غفلت یا حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی ایک سنگین جرم ہے، جس پر بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔”
حکام نے واضح کیا کہ آجر (ایمپلائر) کی ذمہ داری ہے کہ وہ کام شروع کرنے سے پہلے خطرات کی نشاندہی کرے، رسک اسیسمنٹ مکمل کرے اور مناسب حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانی جان کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
ملائیشیا میں تعمیراتی شعبہ بڑی حد تک غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کرتا ہے، جہاں اکثر حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے باعث حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
یہ حادثہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی جان کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

COMMENTS