کوالالمپور: ملائیشیا میں گیگ اکانومی سے وابستہ لاکھوں کارکنوں کے لیے اہم قانون "گیگ ورکرز ایکٹ 2025 (ایکٹ 872)" یکم اپریل سے باضاب...
کوالالمپور: ملائیشیا میں گیگ اکانومی سے وابستہ لاکھوں کارکنوں کے لیے اہم قانون "گیگ ورکرز ایکٹ 2025 (ایکٹ 872)" یکم اپریل سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر صنعت اور مختلف اداروں نے اس کے مؤثر نفاذ کے لیے جامع حکمت عملی پیش کر دی ہے۔
مائی موبیلیٹی ویژن سندرن برہاد کی قیادت میں ایک بین القطاعی اتحاد نے اس قانون کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ پیش کیا ہے۔ اس اتحاد میں نجی کمپنیوں، سرکاری اداروں، ماہرین تعلیم، تھنک ٹینکس اور گیگ ورکرز کی نمائندہ تنظیموں نے شرکت کی۔
یہ منصوبہ 9 مارچ کو سائبرجایا میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس کے بعد تیار کیا گیا، جس کے نتیجے میں "منصفانہ آمدن کو فعال بنانا" کے عنوان سے ایک پالیسی دستاویز بھی جاری کی گئی۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ ایکٹ 872 ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس کے درست اور مؤثر نفاذ پر ہوگا۔
ایم ایم وی کے مطابق، گیگ اکانومی کو باضابطہ شکل دینا اور کارکنوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنا اس قانون کا بنیادی مقصد ہے، تاہم اس وقت اس کے نفاذ میں تکنیکی تفصیلات کی کمی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ "یہ قانون ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن اگر اسے صرف قانونی متن کے طور پر نافذ کیا گیا تو یہ حقیقی تبدیلی نہیں لا سکے گا۔"
گول میز اجلاس کے دوران سامنے آنے والے اہم چیلنجز میں گیگ ورکرز کے اخراجات کا زیادہ ہونا بھی شامل ہے۔ اندازوں کے مطابق ایندھن، گاڑی کی دیکھ بھال، انشورنس، پلیٹ فارم کمیشن اور سوشل سیکیورٹی شراکت جیسے اخراجات کارکنوں کی مجموعی آمدن کا 70 سے 80 فیصد تک کھا جاتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی سازی مجموعی آمدن (گراس انکم) کی بنیاد پر کی گئی تو یہ کارکنوں کی اصل مالی حالت کی درست عکاسی نہیں کرے گی، جس سے ان کے تحفظات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے خالص آمدن (نیٹ انکم) کو بنیاد بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ حقیقی کمائی کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اتحاد کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی منصوبے میں کئی اہم سفارشات شامل ہیں، جن میں ایک شفاف مشاورتی کونسل کا قیام، آمدن کے تعین کے لیے لچکدار فریم ورک، معیاری اخراجاتی ماڈل کی تیاری، ڈیٹا پر مبنی کم از کم اجرت، اور مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان ڈیٹا انضمام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، سوشل سیکیورٹی کی لازمی شمولیت کو مرحلہ وار نافذ کرنے، الگورتھم شفافیت کے اصول وضع کرنے، اور چھوٹے پلیٹ فارمز کے لیے نرم قوانین متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
ایم ایم وی نے خبردار کیا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو ایکٹ 872 محض کاغذی قانون بن کر رہ جائے گا، جو کارکنوں کی عملی زندگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں لا سکے گا۔
ادارے نے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی پیشکش بھی کی ہے، جس میں وزارتِ انسانی وسائل، ایجنسی پینگینگکوتان عوام دارات (اے پی اے ڈی)، ملائیشین کمیونیکیشن اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) اور سوشل سیکیورٹی آرگنائزیشن شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق، گیگ اکانومی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس میں لاکھوں افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں، اس لیے ایک مؤثر اور متوازن قانون سازی نہایت ضروری ہے تاکہ کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ڈیجیٹل معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا، "گیگ ورکرز کو علامتی نہیں بلکہ عملی تحفظ درکار ہے۔ حکومت اور صنعت کے درمیان تعاون ہی اس قانون کی کامیابی کی کنجی ہے۔"

COMMENTS