کوالالمپور: ملائیشیا میں بظاہر کم بیروزگاری کی شرح کے باوجود “پوشیدہ بے روزگاری” کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں لاکھوں افراد یا تو اپنی...
کوالالمپور: ملائیشیا میں بظاہر کم بیروزگاری کی شرح کے باوجود “پوشیدہ بے روزگاری” کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں لاکھوں افراد یا تو اپنی صلاحیت سے کم درجے کی نوکریوں پر مجبور ہیں یا غیر مستحکم روزگار میں پھنسے ہوئے ہیں۔
معروف تجزیہ کار مرے ہنٹر کے مطابق دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران ملک میں سرکاری بیروزگاری کی شرح 2.9 فیصد رہی، جو ایک دہائی کی کم ترین سطح ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
رپورٹ کے مطابق 2.9 فیصد بیروزگاری کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 5 لاکھ 10 ہزار افراد اب بھی بیروزگار ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تقریباً 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو “انڈر ایمپلائیڈ” ہیں، یعنی وہ اپنی تعلیم اور مہارت کے مطابق ملازمت حاصل نہیں کر پا رہے۔
ان میں بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ہے جو کم مہارت یا جزوقتی ملازمتوں پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیمی نظام اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان واضح عدم توازن موجود ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً 2 لاکھ 32 ہزار نئے گریجویٹس ملازمت کے میدان میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ دستیاب نوکریاں صرف 1 لاکھ 27 ہزار کے قریب ہوتی ہیں۔ اس فرق کے باعث ہزاروں نوجوان یا تو بے روزگار رہ جاتے ہیں یا غیر رسمی معیشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی فیلڈ سے ہٹ کر کام کرنے پر مجبور ہیں، جیسے کہ رائیڈ ہیلنگ سروسز یا ریٹیل جابز۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج ہر چار میں سے ایک ملائیشین کسی نہ کسی شکل میں گیگ یا غیر رسمی ملازمت کر رہا ہے۔ ان ملازمتوں میں نہ کم از کم تنخواہ کی ضمانت ہوتی ہے، نہ سوشل سیکیورٹی اور نہ ہی پنشن کی سہولت۔
یہ ملازمتیں غیر مستحکم ہوتی ہیں اور طویل مدتی مالی تحفظ فراہم نہیں کرتیں، جس کے باعث ایک پوری نسل کو “کھوئی ہوئی نسل” قرار دیا جا رہا ہے۔
15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 10 سے 10.3 فیصد کے درمیان ہے، جو قومی اوسط سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 3 لاکھ نوجوان بیروزگار ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سے نوجوان کم گھنٹوں پر کام کر رہے ہیں، جو بھی انڈر ایمپلائمنٹ کی ایک شکل ہے۔
ملائیشیا کی غیر رسمی معیشت ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً 55 فیصد پیدا کرتی ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے والے افراد عموماً چھوٹے کاروبار چلاتے ہیں، جو محدود وسائل اور سرمایہ کی کمی کے باعث ترقی نہیں کر پاتے۔
یہ کاروبار اکثر “ہینڈ ٹو ماؤتھ” کے اصول پر چلتے ہیں اور طویل مدتی استحکام فراہم نہیں کرتے۔
کارپوریٹ سیکٹر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت بھی ملازمتوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ خاص طور پر بینکنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ہزاروں روایتی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں۔
انڈسٹری 4.0 کے تحت آٹومیشن اور اے آئی کے استعمال سے ہنر مند ملازمتیں کم ہو رہی ہیں، جبکہ نوجوانوں کو سروس سیکٹر کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
سروس سیکٹر میں مقامی افراد کو غیر ملکی ورکرز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، جو کم اجرت اور زیادہ گھنٹوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملائیشیا کی شرح پیدائش 2024 میں 1.6 رہی، جو کہ مطلوبہ سطح 2.1 سے کم ہے، جس کے باعث لیبر مارکیٹ میں غیر ملکیوں پر انحصار بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف بیروزگاری کی شرح کم کرنے میں نہیں بلکہ تعلیمی اصلاحات، ہنر کی تربیت اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں ہے۔
خاص طور پر نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ غیر رسمی معیشت میں بھی مستحکم کاروبار قائم کر سکیں۔

COMMENTS