نیگری سمبیلان: محکمہ امیگریشن ملائشیا کے شعبہ نفاذ (انفورسمنٹ) نے ایک اہم کارروائی کے دوران دو مقامی آجروں کو گرفتار کر لیا، جن پر امیگریشن ...
نیگری سمبیلان: محکمہ امیگریشن ملائشیا کے شعبہ نفاذ (انفورسمنٹ) نے ایک اہم کارروائی کے دوران دو مقامی آجروں کو گرفتار کر لیا، جن پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی خلاف ورزی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک منظم نفاذی آپریشن کے دوران عمل میں آئیں، جس کا مقصد غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے استعمال اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں ان آجروں کے خلاف ایسے شواہد سامنے آئے جن کی بنیاد پر انہیں حراست میں لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں افراد کو بعد ازاں پولیس دیراجا ملائیشیا کی جانب سے قانونی کارروائی کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ تاہم کیس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ امیگریشن حکام نے اسے کمپاؤنڈ کے ذریعے نمٹاتے ہوئے دونوں ملزمان پر مجموعی طور پر 45,000 ملائیشین رنگٹ کا جرمانہ عائد کیا۔
حکام کے مطابق یہ جرمانہ موجودہ قانونی دفعات کے مطابق عائد کیا گیا ہے، جو ان آجروں کی جانب سے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے تناظر میں مقرر کیا گیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اس طرح کے جرمانے نہ صرف سزا کے طور پر بلکہ دیگر افراد کے لیے وارننگ کے طور پر بھی دیے جاتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ محکمہ امیگریشن کسی بھی ایسے آجر کے خلاف سخت کارروائی کرے گا جو غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دیتا ہے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ حکام نے زور دیا کہ ملک میں کام کرنے والے تمام کارکنوں کے پاس درست دستاویزات ہونا لازمی ہے اور اس کی ذمہ داری آجروں پر عائد ہوتی ہے۔
پس منظر کے طور پر، ملائیشیا میں گزشتہ چند برسوں سے غیر قانونی تارکین وطن اور غیر رجسٹرڈ غیر ملکی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملکی سلامتی، لیبر مارکیٹ کے استحکام اور قانونی نظام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں امیگریشن قوانین کے تحت مختلف سزائیں مقرر ہیں، جن میں جرمانے، قید اور بلیک لسٹنگ شامل ہیں۔
مزید برآں، حکام کا کہنا ہے کہ بعض آجر کم لاگت کے حصول کے لیے غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دیتے ہیں، جس سے نہ صرف مقامی لیبر مارکیٹ متاثر ہوتی ہے بلکہ قانونی نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت نے انفورسمنٹ آپریشنز کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام آجر حضرات کو چاہیے کہ وہ قوانین کی مکمل پاسداری کریں، کیونکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے خبردار کیا کہ آئندہ بھی ایسے آپریشنز جاری رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

COMMENTS