کوالالمپور: محکمہ امیگریشن نے سال 2026 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 9,497 غیر ملکی شہریوں کو مخت...
کوالالمپور: محکمہ امیگریشن نے سال 2026 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 9,497 غیر ملکی شہریوں کو مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں یکم جنوری سے 9 مارچ کے درمیان کی گئیں، جن میں مجموعی طور پر 2,618 نفاذی کارروائیاں شامل تھیں۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں سے 1,158 افراد کو امیگریشن ریگولیشن 1963 کے رول 39(b) کے تحت حراست میں لیا گیا، جو ویزا یا پاس کی شرائط کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان افراد کی بڑی تعداد نے دیے گئے پاس کا غلط استعمال کیا، خاص طور پر “پاس لاوتن کرجا سمینتارا (پی ایل کے ایس)” اور “پاس لاوتن سوشل (پی ایل ایس)”۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، “ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ غیر ملکی شہری سیاحتی ویزے پر ملک میں داخل ہوتے ہیں، لیکن بعد ازاں غیر قانونی طور پر کام شروع کر دیتے ہیں، جیسے کہ ریستورانوں یا فیکٹریوں میں ملازمت کرنا، جو ان کے ویزے کی شرائط کے خلاف ہے۔”
اعداد و شمار کے مطابق، پاس کی خلاف ورزی کے کیسز میں سب سے زیادہ گرفتاریاں بنگلہ دیشی شہریوں کی ہوئیں، جن کی تعداد 532 ہے۔ اس کے بعد تھائی لینڈ (248)، انڈونیشیا (111)، چین (86) اور پاکستان (51) کے شہری شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملائیشیا میں غیر قانونی ملازمت اور ویزا کے غلط استعمال کا مسئلہ کئی ممالک کے شہریوں سے جڑا ہوا ہے۔
اسی طرح، 1,158 گرفتار افراد میں سے 482 افراد کو خاص طور پر سوشل وزٹ پاس (پی ایل ایس) کے غلط استعمال پر پکڑا گیا۔ ان میں 235 تھائی شہری، 83 بنگلہ دیشی، 62 چینی، 62 انڈونیشی، 13 پاکستانی اور 27 دیگر ممالک کے افراد شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی افراد بغیر اجازت کاروباری سرگرمیوں میں ملوث تھے، جن میں دکانوں اور دیگر تجارتی مراکز کا انتظام شامل ہے۔
داتوک زکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ امیگریشن اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی بھی غیر ملکی شہری کو قوانین کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ دنوں میں بھی ایسے کریک ڈاؤن جاری رہیں گے تاکہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں اور سیاحتی ویزوں کے غلط استعمال سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ملک کی معیشت میں غیر ملکی مزدوروں کا کردار اہم ہے، تاہم غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی ضروری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے تمام افراد اپنے ویزے کی شرائط کے مطابق ہی سرگرمیاں انجام دیں۔
مزید برآں، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے عوام اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے سے گریز کریں، کیونکہ ایسا کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں موجود تمام غیر ملکی افراد اپنے دستاویزات کو قانونی اور درست رکھیں۔
یہ کریک ڈاؤن ملائیشیا کی جانب سے امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رہنے کا امکان ہے۔

COMMENTS