ملائیشیا کے صوبہ کداح کے شہر سنگائی پتانی میں ایک رہائشی مکان میں قائم آن لائن جوئے کے اڈے پر امیگریشن حکام نے کامیاب چھاپہ مار کر پاکستانی ...
ملائیشیا کے صوبہ کداح کے شہر سنگائی پتانی میں ایک رہائشی مکان میں قائم آن لائن جوئے کے اڈے پر امیگریشن حکام نے کامیاب چھاپہ مار کر پاکستانی شہری سمیت 7 افراد کو گرفتار کر لیا، جو گزشتہ پانچ ماہ سے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
جباتن امیگریشن ملائیشیا کداح کے ڈائریکٹر محمد رضوان محمد زین کے مطابق، یہ کارروائی عوامی اطلاع موصول ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ چھاپہ منگل کے روز شام تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر مارا گیا، جس کے دوران ایک مقامی شہری اور چھ غیر ملکیوں کو حراست میں لیا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں پانچ بنگلہ دیشی شہری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے، جبکہ ایک ملائیشین شہری بھی اس نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ گروہ اپنے ہم وطن افراد، خاص طور پر بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو آن لائن جوئے کی سہولت فراہم کرتا تھا۔
محمد رضوان نے اپنے بیان میں کہا، “یہ ایک منظم نیٹ ورک تھا جو رہائشی علاقے میں قائم کیا گیا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے، تاہم عوامی تعاون کی بدولت اس سرگرمی کو بے نقاب کیا گیا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ اس غیر قانونی کاروبار سے ہر ماہ دسیوں ہزار رنگٹ کا منافع حاصل کیا جا رہا تھا، جو اس نیٹ ورک کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ حکام کے مطابق، ملزمان نے اپنے اڈے کو عام رہائشی مکان میں قائم کر کے اسے چھپانے کی کوشش کی، لیکن یہ حکمت عملی زیادہ دیر تک کامیاب نہ ہو سکی۔
جباتن امیگریشن کے مطابق، تمام گرفتار افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
محمد رضوان نے واضح کیا کہ ان کا ادارہ غیر قانونی تارکین وطن اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ “کسی بھی قانون شکنی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔”
ماہرین کے مطابق، آن لائن جوئے کے ایسے نیٹ ورکس نہ صرف مالی جرائم کو فروغ دیتے ہیں بلکہ یہ سماجی مسائل کو بھی جنم دیتے ہیں، جن میں قرض، دھوکہ دہی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اسی لیے ملائیشیا میں حالیہ عرصے میں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا کے مختلف شہروں میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل متحرک ہیں، خصوصاً ایسے کیسز میں جہاں غیر ملکی شہری ملوث ہوں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون ان کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

COMMENTS