ملائیشیا میں سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جہاں صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پینانگ (سی اے پی...
ملائیشیا میں سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جہاں صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پینانگ (سی اے پی) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں سبزیوں کی قیمتیں 50 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر عوام کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے گھریلو سطح پر سبزیاں اگانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
سی اے پی کے افسر این وی سوبراؤ نے ایک بیان میں کہا کہ کیمرون ہائی لینڈز کے سبزی کاشتکاروں نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہے، جو بعد میں کم ہو کر تقریباً 30 فیصد تک آ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کسانوں کو کھاد کی قیمتوں میں اضافے، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور مزدوروں کی اجرت میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ خاص طور پر زرعی شعبے میں کام کرنے والے غیر ملکی مزدور زیادہ اجرت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی کے بحران سے بھی جڑی ہوئی ہے، جس کے اثرات کھاد، ایندھن اور ترسیل کے اخراجات پر پڑ رہے ہیں۔ یہی عوامل ملائیشیا سمیت کئی ممالک میں زرعی مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
این وی سوبراؤ نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی خوراکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گھریلو سطح پر سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کی کاشت شروع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے نہ صرف اخراجات میں کمی ممکن ہے بلکہ صحت مند خوراک بھی میسر آ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “گھروں میں قدرتی طریقے سے سبزیاں اگانے سے مہنگی خریداری سے بچا جا سکتا ہے۔ باورچی خانے کے فضلے سے کمپوسٹ بنا کر کھاد تیار کی جا سکتی ہے، جو ماحول دوست بھی ہے اور سستی بھی۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ محدود جگہ کے باوجود مختلف اقسام کی سبزیاں آسانی سے اگائی جا سکتی ہیں، جن میں بھنڈی، بینگن، مرچ، سرسوں، پالک، کنگ کونگ، کیلن، پودینہ، پگگا، کسم اور سیلوم شامل ہیں۔ یہ تمام فصلیں گھروں کی چھتوں یا بالکونی میں بھی اگائی جا سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، ملائیشیا میں سبزیوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ پیداواری لاگت میں اضافہ سپلائی چین کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ معمول بنتا جا رہا ہے، جس سے عام صارفین پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے بروقت اقدامات نہ کریں تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے خوراک کی دستیابی اور مہنگائی کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ عالمی حالات کا براہ راست اثر روزمرہ کی اشیاء پر پڑ رہا ہے، اور صارفین کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتی مہنگائی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

COMMENTS