بلاکونگ: محکمہ امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) نے سیلانگور کے علاقوں بلاکونگ اور شاہ عالم میں واقع دو صنعتی مقامات پر “اوپس میگا” کے تحت کار...
بلاکونگ: محکمہ امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) نے سیلانگور کے علاقوں بلاکونگ اور شاہ عالم میں واقع دو صنعتی مقامات پر “اوپس میگا” کے تحت کارروائی کرتے ہوئے امیگریشن قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر 133 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔
یہ مشترکہ آپریشن صبح 11:00 بجے شروع ہوا، جس میں 145 افسران نے حصہ لیا۔ اس کارروائی میں اسٹریٹجک تعاون کے تحت محکمہ کسٹمز ملائیشیا، وزارت تجارتِ داخلی و لاگتِ زندگی، محکمہ ماحولیات اور ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن بھی شامل تھے۔
عوامی شکایات اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن ٹیموں کو بیک وقت مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا، جہاں مجموعی طور پر 162 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس دوران 20 سے 45 سال کی عمر کے 133 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں بنگلہ دیش، پاکستان، میانمار، نیپال، انڈونیشیا، بھارت، ویتنام اور چین کے شہری شامل ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مختلف خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن میں شناختی دستاویزات کی عدم موجودگی، ویزا شرائط کی خلاف ورزی، زائد المیعاد قیام، غیر تسلیم شدہ شناختی کارڈ رکھنا، اور دیگر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
اس آپریشن کے دوران محکمہ کسٹمز ملائیشیا نے بغیر ٹیکس کے سگریٹس اور شراب بھی ضبط کی۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتو ذکریا بن شعبان نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارے نے 2025 سے لے کر رواں سال فروری تک غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے والے 2,286 آجروں پر مجموعی طور پر 42.6 ملین رنگٹ کے جرمانے عائد کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے نفاذی آپریشنز مسلسل جاری رکھے جائیں گے تاکہ امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹ ایکٹ 1966، امیگریشن ریگولیشنز 1963 اور انسانی اسمگلنگ و مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف ایکٹ 2007 کے تحت خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کی نشاندہی، گرفتاری، مقدمہ اور ملک بدری کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ امیگریشن نے عوام اور آجروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی غیر ملکیوں کو پناہ نہ دیں، بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر ان کے پاس ایسے افراد سے متعلق معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر سرکاری ذرائع کے ذریعے محکمہ کو آگاہ کریں۔

COMMENTS