میرِی: ملائیشیا کی ریاست سراواک میں امیگریشن حکام نے “اوپس گیگار” کے نام سے ایک آپریشن کے دوران 26 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا، جن پر ا...
میرِی: ملائیشیا کی ریاست سراواک میں امیگریشن حکام نے “اوپس گیگار” کے نام سے ایک آپریشن کے دوران 26 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا، جن پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔
جاباتن امیگریسن ملائیشیا (جے آئی ایم) سراواک کے مطابق یہ کارروائی ضلع نیاہ، میرِی کے ایک تفریحی مرکز میں کی گئی، جسے کئی ہفتوں کی خفیہ نگرانی اور معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ حکام کو شبہ تھا کہ اس مقام پر غیر قانونی طور پر غیر ملکی افراد کو ملازمت دی جا رہی ہے اور انہیں پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔
آپریشن صبح تقریباً ایک بجے شروع ہوا، جس کے دوران مجموعی طور پر 31 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ان میں پانچ مقامی شہری جبکہ 26 انڈونیشیائی باشندے شامل تھے۔ حکام کے مطابق، غیر ملکی افراد میں سے صرف چار کے پاس پاسپورٹ موجود تھے، جبکہ باقی افراد کوئی بھی درست سفری دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گرفتار افراد مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، جن میں عارضی ورک پاس کا غلط استعمال، مقررہ مدت سے زائد قیام اور بغیر کسی قانونی دستاویز کے ملک میں موجودگی شامل ہیں۔ تمام گرفتار افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ کاروباری ادارے کے مالک یا منتظم نے غیر ملکی کارکنوں کو بغیر درست ورک پرمٹ کے ملازمت دی اور غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے احاطے میں کام کرنے کی اجازت دی۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے امیگریشن ڈپو بیکینو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے کیسز کی تفصیلی جانچ کی جائے گی۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور ایسے اداروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔

COMMENTS