بکیت کایو ہیتم: ملائیشیا کے سرحدی مقام بکیت کایو ہیتم میں واقع امیگریشن، کسٹمز، قرنطینہ اور سیکیورٹی کمپلیکس (آئی سی کیو ایس) پر 28 غیر ملک...
بکیت کایو ہیتم: ملائیشیا کے سرحدی مقام بکیت کایو ہیتم میں واقع امیگریشن، کسٹمز، قرنطینہ اور سیکیورٹی کمپلیکس (آئی سی کیو ایس) پر 28 غیر ملکی افراد کو ملک میں داخلے سے روک دیا گیا، کیونکہ وہ مقررہ شرائط پوری کرنے میں ناکام رہے۔
ایجنسی کوالان دان پرلندوگان سمپادان ملائشیا (اے کے پی ایس) کے مطابق یہ کارروائی یکم اپریل سے 11 اپریل کے دوران کی گئی اسکریننگ اور چیکنگ کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام افراد کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد ہی انہیں داخلے سے روکا گیا۔
حکام کے مطابق داخلہ مسترد کیے جانے کی بڑی وجوہات میں واپسی کا ٹکٹ نہ ہونا، سفر کا واضح مقصد بیان نہ کر پانا، اور بعض افراد کا مشتبہ فہرست (واچ لسٹ) میں شامل ہونا شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، جس کی بنیاد پر فوری کارروائی کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق 28 افراد میں سے 14 کا تعلق بھارت سے تھا، جبکہ دیگر افراد تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، میانمار، سری لنکا، تائیوان اور انڈونیشیا کے شہری تھے۔ مزید یہ کہ پانچ تھائی شہریوں کو خراب پاسپورٹ کی وجہ سے داخلہ نہیں دیا گیا، جبکہ دو بنگلہ دیشی شہریوں کو زمینی راستے کے ذریعے داخل ہونے کی اجازت نہ ہونے کے باعث واپس بھیج دیا گیا۔
اے کے پی ایس کے کمانڈر ایس اے سی فوزی محمد یوسف نے بتایا کہ تمام افراد کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں اور ان میں زیادہ تر مرد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن حکام کی جانب سے کیے جانے والے سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر بھی داخلہ مسترد کیا گیا۔
حکام کے مطابق تمام افراد کو ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسی مقام سے واپس ان کے روانگی کے ملک کی طرف بھیج دیا گیا۔ اس دوران امیگریشن قوانین کے مطابق مکمل دستاویزی عمل کو یقینی بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چیکنگ کے عمل کو مسلسل سخت کیا جا رہا ہے تاکہ صرف وہی افراد ملک میں داخل ہو سکیں جو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوں۔ حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا غلط معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا کی حکومت سرحدی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے اور غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
مزید برآں، سرحدی مقامات پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نگرانی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔ متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں کہ سرحدی نگرانی کا نظام مؤثر رہے۔

COMMENTS