رانتاؤ پانجانگ: ملائیشیا کی سرحدی سیکیورٹی فورس پاسوکن جیرکان عام (پی جی اے) نے 34 طلبہ اور اسکول کے بچوں کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ غ...
رانتاؤ پانجانگ: ملائیشیا کی سرحدی سیکیورٹی فورس پاسوکن جیرکان عام (پی جی اے) نے 34 طلبہ اور اسکول کے بچوں کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ غیر قانونی راستے کے ذریعے دریائے گولوک عبور کر کے اسکول جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 6:30 بجے پیش آیا جب سیکیورٹی اہلکاروں نے ان طلبہ کو تھائی لینڈ سے ملائیشیا میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ گرفتار ہونے والوں کی عمریں 7 سے 16 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں 12 لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
برگیڈ کے کمانڈر سینیئر اسسٹنٹ کمشنر احمد رضی حسین کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تمام طلبہ ملائیشیا کے شہری ہیں لیکن جنوبی تھائی لینڈ میں رہائش پذیر ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ رانتاؤ پانجانگ آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے دریا عبور کرنے کے لیے ایک غیر قانونی پوائنٹ (پنگکالن حرام) استعمال کیا۔
احمد رضی حسین نے واضح کیا کہ سرحد عبور کرنے کے قوانین میں کسی کو استثنا حاصل نہیں، چاہے وہ طلبہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی راستے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرحدی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ بعض طلبہ روزانہ تعلیم کے لیے اسی طرح غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرتے ہیں، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
تمام طلبہ کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 5(2) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور کیس مزید کارروائی کے لیے جباتن امیگریشن ملائیشیا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سرحدی علاقوں میں بعض مقامات پر غیر قانونی گزرگاہیں موجود ہیں، جنہیں مقامی طور پر "پنگکالن حرام" کہا جاتا ہے۔ ان راستوں کے ذریعے لوگوں کی آمد و رفت سیکیورٹی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، جس پر حکام مسلسل نگرانی اور کارروائی کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت، اسمگلنگ اور دیگر جرائم کو روکا جا سکے۔ اسی سلسلے میں سرحدی علاقوں میں گشت اور نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

COMMENTS