سنڈاکن: ملائیشیا کے صوبہ صباح میں امیگریشن حکام نے ایک کارروائی کے دوران 49 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی حال ہی می...
سنڈاکن: ملائیشیا کے صوبہ صباح میں امیگریشن حکام نے ایک کارروائی کے دوران 49 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی حال ہی میں ضلع سنڈاکن کے مختلف علاقوں میں کی گئی، جہاں غیر قانونی افراد کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
حکام کے مطابق، اس آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 95 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 49 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار افراد میں 13 مرد، 15 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں۔ یہ تمام افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں فلپائن، انڈونیشیا اور پاکستان شامل ہیں۔
جاری بیان کے مطابق، زیر حراست افراد پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں بغیر درست سفری دستاویزات کے ملک میں داخل ہونا اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرنا شامل ہے۔ یہ خلاف ورزیاں امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) اور 15(1)(سی) کے ساتھ ساتھ امیگریشن ریگولیشنز 1963 کی دفعہ 39(بی) کے تحت آتی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے امیگریشن ڈیپو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی دستاویزات اور حیثیت کی مزید جانچ کی جائے گی۔ اس دوران متعلقہ حکام ان افراد کے پس منظر اور ملک میں داخلے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیں گے۔
محکمہ امیگریشن صباح نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد بلکہ ایسے افراد یا ادارے بھی قانون کی گرفت میں آئیں گے جو انہیں پناہ دیتے یا ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
بیان میں عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات فراہم کریں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر کارروائی کر سکیں۔ حکام کے مطابق، عوامی تعاون اس طرح کی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی قیام اور روزگار کے رجحان کو روکنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

COMMENTS