ایپوہ: محکمہ امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) پیراک نے ایک بڑی کارروائی کے دوران 79 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جبکہ تحقیقات میں ا...
ایپوہ: محکمہ امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) پیراک نے ایک بڑی کارروائی کے دوران 79 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جبکہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ متعلقہ آجران بار بار قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر داتوک جیمز لی کے مطابق یہ کارروائی شہر میں دو مختلف مقامات پر کی گئی، جہاں ایک گودام سے 56 جبکہ ایک دستانے بنانے والی فیکٹری سے مزید 23 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ دونوں مقامات آپس میں منسلک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان مقامات پر اس سے قبل بھی چھاپہ مارا جا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود غیر قانونی سرگرمیاں جاری رہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آجران بار بار قانون شکنی میں ملوث ہیں۔
داتوک جیمز لی نے کہا، “یہ احاطہ گزشتہ سال بھی ہماری کارروائی کا نشانہ بن چکا ہے، اور موجودہ آپریشن دوسرا چھاپہ ہے۔ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلاف ورزیاں دوبارہ کی گئی ہیں، اس لیے ہم مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔”
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں مختلف نوعیت کی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جن میں بغیر دستاویزات ملک میں قیام، ویزا کی مدت سے تجاوز (اوور اسٹے)، اور پاس کے غلط استعمال جیسے جرائم شامل ہیں۔
مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض کارکن سوشل وزٹ پاس پر تھے مگر غیر قانونی طور پر کام کر رہے تھے، جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جن کے پاس ورک پرمٹ موجود تھا لیکن وہ کسی دوسرے آجر کے ساتھ کام کر رہے تھے، جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے امیگریشن دفتر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ کار آجران تک بھی بڑھا دیا گیا ہے تاکہ ان کے کردار کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
یہ کیس امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت زیر تفتیش ہے، جس میں سیکشن 6(1)(سی) (بغیر قانونی دستاویزات قیام)، سیکشن 15(1)(سی) (اوور اسٹے) اور ریگولیشن 39(بی) (پاس کا غلط استعمال) شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آجران کے خلاف بھی سخت کارروائی متوقع ہے، جنہیں سیکشن 55بی کے تحت غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دینے پر چارج کیا جا سکتا ہے، جبکہ سیکشن 56(1)(ڈی) کے تحت انہیں پناہ دینے یا تحفظ فراہم کرنے کے جرم میں بھی سزا ہو سکتی ہے۔
محکمہ محنت (لیبر ڈیپارٹمنٹ) بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، جہاں ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 کے سیکشن 60کے کے تحت غیر ملکی ملازمین کی بھرتی کی اطلاع نہ دینے اور ملازمت کی شرائط کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی مزدوری کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا اور کسی بھی آجر یا فرد کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

COMMENTS