کوالالمپور: ملائیشیا نے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے جہاں وزیر اعظم انور ابراہیم کی براہِ راست سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ملائیشین ب...
کوالالمپور: ملائیشیا نے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے جہاں وزیر اعظم انور ابراہیم کی براہِ راست سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ملائیشین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت مل گئی ہے، جو عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے ملائیشیا کے کم از کم سات جہازوں کو، جن میں چار خام تیل لے جانے والے ٹینکرز بھی شامل تھے، بغیر کسی فیس کے محفوظ گزرنے کی اجازت دے دی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث متعدد جہازوں سے مبینہ طور پر 20 لاکھ امریکی ڈالر تک کے ٹرانزٹ چارجز طلب کیے جا رہے تھے۔
اس پیش رفت کے پس منظر میں وزیر اعظم انور ابراہیم کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے براہِ راست ٹیلیفونک گفتگو شامل ہے، جبکہ ملائیشیا کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان رابطوں کے نتیجے میں نہ صرف جہازوں کو محفوظ راستہ ملا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم آئل سپلائی روٹس میں سے ایک ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ملائیشیا کے لیے اس راستے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ ملک اپنی ضروریات کے لیے تقریباً 69 فیصد خام تیل خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملائیشیا مقامی طور پر ہلکا اور مہنگا خام تیل برآمد کرتا ہے جبکہ ریفائنری کے لیے سستا اور بھاری خام تیل درآمد کرتا ہے، جو زیادہ تر اسی راستے سے آتا ہے۔ ایسے میں اگر یہ گزرگاہ بند ہو جائے یا مہنگی ہو جائے تو ملک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث حکومت کو فیول سبسڈی میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں اس اہم گزرگاہ پر سخت کنٹرول اور بعض جہازوں پر پابندیاں عائد کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم ملائیشیا کے لیے خصوصی رعایت دی جانا ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم انور ابراہیم کی پالیسی کو ماہرین "فون کال ڈپلومیسی" قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت براہِ راست عالمی رہنماؤں سے رابطے کے ذریعے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔ اس حکمت عملی نے ملائیشیا کو ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر پیش کیا ہے، جو نہ کسی بلاک کا حصہ ہے اور نہ ہی کسی تنازع میں فریق بننا چاہتا ہے۔
علاوہ ازیں ملائیشیا نے غزہ اور ایران سے متعلق عالمی تنازعات میں بھی متوازن مؤقف اپنایا ہے، جس کی وجہ سے اسے مختلف ممالک کے درمیان ایک "ایماندار ثالث" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی اعتماد ایران کی جانب سے رعایت دینے کی ایک بڑی وجہ بنا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ملائیشیا کے 23 رضاکار، جو غزہ کے لیے امدادی مشن پر گئے تھے، اسرائیل میں حراست میں لے لیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں انور ابراہیم کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں رہا کرایا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں جہاں بڑی طاقتیں براہِ راست تصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں، وہاں ملائیشیا جیسے درمیانے درجے کے ممالک کے لیے سفارت کاری ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ اس حالیہ کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ مسلسل رابطہ، اعتماد سازی اور غیر جانبداری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بھی بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف ملائیشیا کی توانائی سپلائی محفوظ ہوئی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی سفارتی ساکھ بھی مضبوط ہوئی ہے، جو مستقبل میں مزید اقتصادی اور سیاسی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔

COMMENTS