کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں طویل مدتی اور جامع امن کے قیام پر زور د...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں طویل مدتی اور جامع امن کے قیام پر زور دیا ہے، یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کے عارضی جنگ بندی معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی ایک مثبت قدم ہے اور تہران کی جانب سے پیش کیا گیا امن منصوبہ علاقائی اور عالمی استحکام کی جانب ایک اہم اشارہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ موقع کو استعمال کرتے ہوئے دیانتدار اور مسلسل مذاکرات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔
انور ابراہیم نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں کسی قسم کے پوشیدہ مفادات یا غیر مخلصانہ رویے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق تمام فریقین کی سنجیدہ اور مضبوط وابستگی ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ مذاکرات عارضی وقفے کے بجائے حقیقی امن معاہدے پر منتج ہوں۔
ملائیشیا کا مؤقف ہے کہ امن کا حل جامع ہونا چاہیے اور اس میں ان تمام خطوں کو شامل کیا جانا چاہیے جو اس تنازع سے متاثر ہو رہے ہیں، جن میں عراق، لبنان اور یمن شامل ہیں۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی مشکلات، خصوصاً غزہ میں جاری انسانی بحران کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا، جو تنازع میں شامل فریقین کے درمیان سفارتی رابطوں کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کا کھلا اور مثبت مکالمہ عالمی کشیدگی کم کرنے میں ایک مثال ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز میں مختلف اہم امور شامل ہیں، جن میں جارحیت کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ اور خطے سے غیر ملکی افواج کا انخلا شامل ہے۔ اس تجویز کو جاری مذاکرات کے لیے ایک اہم بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ شہریوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ جنگ بندی ایک عارضی وقفے کے بجائے مستقل اور پائیدار امن کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگی۔

COMMENTS