ملائیشیا میں 27 سال تک لاپتہ رہنے والا ایک بنگلہ دیشی محنت کش بالآخر اپنے وطن واپس پہنچ گیا، جہاں اس کی اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات جذباتی مناظ...
ملائیشیا میں 27 سال تک لاپتہ رہنے والا ایک بنگلہ دیشی محنت کش بالآخر اپنے وطن واپس پہنچ گیا، جہاں اس کی اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات جذباتی مناظر میں تبدیل ہو گئی۔
62 سالہ عامر حسین تالکدار، جو ضلع شریعت پور کے علاقے نریا سے تعلق رکھتے ہیں، گزشتہ رات ایک پرواز کے ذریعے ڈھاکہ پہنچے۔ ان کا استقبال ایئرپورٹ پر متعلقہ حکام اور ان کے اہلِ خانہ نے کیا۔ حکام کے مطابق ان کی واپسی میں ایک غیر سرکاری تنظیم بی آر اے سی کے مائیگریشن پروگرام نے اہم کردار ادا کیا۔
اطلاعات کے مطابق عامر حسین 1996 میں روزگار کی تلاش میں ملائیشیا گئے تھے۔ ابتدائی تین سال تک وہ اپنے خاندان سے رابطے میں رہے اور گھر پیسے بھی بھیجتے رہے، تاہم اس کے بعد اچانک ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
ان کے بیٹے بابو تالکدار نے بتایا کہ کئی برس تک ان کے والد کا کوئی سراغ نہیں ملا، جس کے باعث اہلِ خانہ نے ان کے بارے میں امید تقریباً چھوڑ دی تھی۔ “ہمیں لگا تھا کہ شاید وہ اب زندہ نہیں رہے،” انہوں نے کہا۔
یہ معاملہ اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب حال ہی میں ملائیشیا کے علاقے پینانگ میں مقیم چند بنگلہ دیشی افراد نے عامر حسین کو ایک جنگل میں واقع جھونپڑی میں پایا۔ رپورٹ کے مطابق وہ ذہنی طور پر غیر مستحکم حالت میں وہاں رہ رہے تھے۔ ان افراد نے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا اور ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی معلومات نے اس کیس میں اہم پیش رفت ممکن بنائی۔ ایک بنگلہ دیشی صحافی اور دیگر افراد نے اس معلومات کو مزید پھیلایا، جس کے بعد بی آر اے سی اور متعلقہ حکام تک یہ معاملہ پہنچا۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصاویر کے ذریعے ان کی شناخت کی تصدیق کی۔
تصدیق کے بعد ملائیشیا میں بنگلہ دیشی ہائی کمیشن نے سفری دستاویز جاری کیے اور ان کی وطن واپسی کے انتظامات مکمل کیے۔ تنظیم کے حکام کا کہنا ہے کہ عامر حسین کو طبی اور دیگر معاونت بھی فراہم کی جائے گی، کیونکہ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
بی آر اے سی کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ صرف ایک فرد کی واپسی نہیں بلکہ ایک خاندان کے طویل انتظار کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے بیرونِ ملک کام کرنے والے مزدوروں کو درپیش خطرات اور مشکلات بھی واضح ہوتی ہیں، خصوصاً ایسے معاملات جہاں افراد برسوں تک لاپتہ رہتے ہیں۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بیرونِ ملک کام کرنے والے افراد کا ڈیٹا محفوظ اور منظم رکھنا ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات کی بروقت نشاندہی اور مدد ممکن ہو سکے۔

COMMENTS