کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے بھرتی نظام سے متعلق تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں بیسٹینیٹ کمپنی کے بانی داتوک س...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے بھرتی نظام سے متعلق تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں بیسٹینیٹ کمپنی کے بانی داتوک سری امین الاسلام عبدالنور نے سابق وزیر معیشت داتوک سری رافیزی رملی کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔
رافیزی رملی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ انہیں یہ قانونی نوٹس موصول ہوا ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ ان کی قانونی ٹیم کے سپرد کر دیا گیا ہے جو اپنی جانچ کے بعد مناسب کارروائی کرے گی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بیسٹینیٹ پہلے ہی رافیزی کے خلاف عدالت میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر چکی ہے۔ قانونی نوٹس اسی جاری عدالتی کارروائی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور پیچیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے استعمال ہونے والے سسٹم سے متعلق حکومتی پالیسی اور ممکنہ نئے کنٹریکٹ پر اختلاف ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں رافیزی اور ان کی جماعت کے چند دیگر ارکانِ پارلیمنٹ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں بیسٹینیٹ کو ایک نیا حکومتی کنٹریکٹ دینے کی مبینہ تجویز کی مخالفت کی گئی تھی۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں استعمال ہونے والا سسٹم، جو بیسٹینیٹ نے تیار کیا تھا، کئی مسائل کا شکار رہا۔ ان کے مطابق پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں اس نظام میں کنٹرول کی کمزوریوں اور ناقص انتظامی امور کی نشاندہی کی گئی تھی۔
پس منظر کے طور پر، پرانا نظام ایک ایسا مرکزی نظام ہے جو 2015 سے ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے داخلے اور درخواستوں کے انتظام کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم، اس نظام کے حوالے سے شفافیت اور کارکردگی پر سوالات وقتاً فوقتاً اٹھتے رہے ہیں۔
مزید برآں، 16 اپریل کو ایک بین الاقوامی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت ایک نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم "یونیورسل ریکروٹمنٹ ایڈوانسڈ پلیٹ فارم" متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جسے مبینہ طور پر بیسٹینیٹ ہی تیار کر رہی ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد موجودہ سسٹم کی جگہ لینا اور غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو جدید بنانا بتایا گیا ہے۔
اسی دوران، بیسٹینیٹ اور اس کے بانی امین الاسلام نے رواں سال کے آغاز میں متعدد میڈیا اداروں اور افراد کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ یہ مقدمہ جنوری میں شائع ہونے والی رپورٹس اور ان کے بعد سامنے آنے والی خبروں کے تناظر میں کیا گیا، جن میں کمپنی کے کردار اور سسٹم کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔
حکام کے مطابق اس پورے معاملے میں حکومتی سطح پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اور کسی بھی نئے نظام یا کنٹریکٹ کے نفاذ سے قبل مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔
یہ تنازع نہ صرف حکومتی شفافیت بلکہ غیر ملکی کارکنوں کے بھرتی کے نظام کی بہتری کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ملائیشیا میں لاکھوں غیر ملکی کارکن مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نئے نظام کی تشکیل یا پرانے نظام کی تبدیلی ایک بڑا پالیسی فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔

COMMENTS