جوہر بہرو: ملائیشیا کے امیگریشن حکام نے جدید ڈیجیٹل نظام (نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم) کے تحت ای گیٹ سہولت کا باقاعدہ نفاذ کر دیا ہے، جس ک...
جوہر بہرو: ملائیشیا کے امیگریشن حکام نے جدید ڈیجیٹل نظام (نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم) کے تحت ای گیٹ سہولت کا باقاعدہ نفاذ کر دیا ہے، جس کا مقصد مسافروں کے لیے امیگریشن کا عمل تیز، آسان اور زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
حکام کے مطابق اس جدید نظام کا پہلا مرحلہ 31 مارچ 2026 کو سینائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جوہر میں شروع کیا گیا، جہاں آنے والے مسافروں کو اب خودکار ای گیٹس کے ذریعے امیگریشن کلیئرنس کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ روایتی طریقہ کار میں درپیش مشکلات بھی کم ہوں گی۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق، نئے سسٹم کو مرحلہ وار ملک کے دیگر داخلی راستوں پر بھی نافذ کیا جائے گا۔ شیڈول کے مطابق 31 مئی 2026 کو زمینی راستے پر کمپلیکس آئی سی کیو ایس بکیت بونگا، کلنتان میں اس سسٹم کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ 30 جون 2026 کو سمندری راستے پر پوتیری ہاربر فیری ٹرمینل، جوہر میں بھی اس کا نفاذ متوقع ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس جدید نظام کی خاص بات یہ ہے کہ مسافر اب دو طریقوں سے امیگریشن کلیئرنس حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک طرف روایتی پاسپورٹ کا استعمال برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب نیا سسٹم موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے کیو آر کوڈ اسکین کر کے بھی آسانی سے امیگریشن پراسیس مکمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سہولت ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
مزید برآں، امیگریشن حکام نے شہریوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے امیگریشن سسٹم ایپ کو ڈاؤن لوڈ کریں تاکہ جدید، تیز اور صارف دوست سروسز سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس ایپ کے ذریعے نہ صرف امیگریشن عمل آسان ہوگا بلکہ سیکیورٹی کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا حکومت گزشتہ چند برسوں سے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ملائشیا مدانی وژن کے تحت مختلف سرکاری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ عوامی خدمات کو مؤثر، شفاف اور تیز بنایا جا سکے۔ نیا امیگریشن سسٹم بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو نہ صرف ملکی سیکیورٹی کو مضبوط بنائے گا بلکہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے سہولت میں بھی اضافہ کرے گا۔
ماہرین کے مطابق ایسے خودکار امیگریشن نظام عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، خاص طور پر بڑے ایئرپورٹس اور سرحدی مقامات پر، جہاں روزانہ ہزاروں مسافروں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ملائیشیا کا یہ اقدام خطے میں ایک جدید اور مسابقتی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
حکام نے مزید واضح کیا کہ اس نظام کے تحت تمام ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید سیکیورٹی پروٹوکولز استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی سائبر سیکیورٹی خطرات سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مسافروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام کو زیادہ یوزر فرینڈلی بنایا گیا ہے۔

COMMENTS