باتو پاہات: جوہر میں محکمہ امیگریشن نے مشترکہ آپریشن کے دوران 11 مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 24 غیر قانونی غیر ملکی افراد کو گرفتار کر لیا،...
باتو پاہات: جوہر میں محکمہ امیگریشن نے مشترکہ آپریشن کے دوران 11 مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 24 غیر قانونی غیر ملکی افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں 11 خواتین بھی شامل ہیں۔
محکمہ امیگریشن جوہر کے ڈائریکٹر داتوک محمد روسدی محمد داروس کے مطابق یہ کارروائی منگل کی رات 8 بجے شروع کی گئی، جس میں "اوپس ساپو، اوپس سیلیرا، اوپس منیاک اور اوپس آجر" کے تحت مختلف علاقوں کو ہدف بنایا گیا۔ آپریشن کا مقصد ایسے مقامات کے خلاف کارروائی کرنا تھا جہاں غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملازمت دی جا رہی تھی یا انہیں پناہ فراہم کی جا رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران کھانے پینے کی دکانیں، ٹائر شاپس اور رہائشی مقامات شامل تھے، جہاں سے غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جن میں بنگلہ دیش، میانمار، نیپال، انڈونیشیا، ویتنام اور کمبوڈیا شامل ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کے پاس یا تو درست سفری دستاویزات موجود نہیں تھے یا ان کے ویزا اور پاس کی مدت ختم ہو چکی تھی۔ اس بنیاد پر انہیں امیگریشن قوانین کے تحت حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
آپریشن کے دوران حکام نے چھ گواہی سمن بھی جاری کیے تاکہ مزید تحقیقات میں مدد حاصل کی جا سکے اور اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد تک پہنچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مربوط آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
داتوک محمد روسدی نے خبردار کیا کہ ایسے آجر جو غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملازمت دیتے ہیں یا انہیں پناہ فراہم کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس" پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا مقصد نہ صرف قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے بلکہ لیبر مارکیٹ کو بھی منظم کرنا ہے تاکہ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع محفوظ رہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ عرصے میں امیگریشن حکام نے مختلف ریاستوں میں متعدد کارروائیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں غیر قانونی افراد کو گرفتار کیا گیا اور کئی کاروباری اداروں کو جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔

COMMENTS