پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے غیر ملکی مزدوروں کی بھرتی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نئے نظام کے اعلان کے بعد اس منصوبے...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے غیر ملکی مزدوروں کی بھرتی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نئے نظام کے اعلان کے بعد اس منصوبے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس کی لاگت، شفافیت اور عملی مؤثریت کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔
سابق رکن پارلیمنٹ چارلس سینٹیاگو اور پبلک پالیسی تجزیہ کار وی ایشوریا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اس نئے نظام کی تیاری پر کتنا خرچ آئے گا اور آیا اس حوالے سے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے یا نہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ یہ نیا اے آئی سسٹم موجودہ فارن ورکرز سینٹرلائزڈ مینجمنٹ سسٹم (ایف ڈبلیو سی ایم ایس) سے کس طرح مختلف ہوگا، جس پر ماضی میں شفافیت کے حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے۔ ان کے مطابق ایف ڈبلیو سی ایم ایس ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو گیا تھا جہاں مبینہ طور پر مڈل مین کے ذریعے مزدوروں سے فیسیں وصول کی جاتی تھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ صرف “اے آئی” کا لیبل لگانے سے گورننس کے مسائل حل نہیں ہوتے، اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ نئے نظام میں ایسے کون سے حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے جو اسے ماضی کی خامیوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
انہوں نے وزیر انسانی وسائل آر رمانن کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ اس نئے نظام کے ذریعے مڈل مین کا کردار ختم ہو جائے گا اور مزدوروں کے لیے بھرتی کا عمل مکمل طور پر مفت ہو جائے گا۔ ناقدین کے مطابق حقیقت میں مزدور اکثر اپنے آبائی علاقوں میں غیر رسمی ایجنٹس کو ادائیگیاں کرتے ہیں، جسے کسی بھی ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ٹریک کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مزید یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اس اے آئی سسٹم کو کون تیار کرے گا اور اس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا۔ ناقدین نے نشاندہی کی کہ ماضی میں ایف ڈبلیو سی ایم ایس کا ٹھیکہ کھلے ٹینڈر کے بغیر دیا گیا تھا اور یہ کئی سال تک بغیر باقاعدہ معاہدے کے چلتا رہا۔ اس تناظر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیا سسٹم مکمل شفافیت کے ساتھ پبلک پروکیورمنٹ کے عمل سے گزارا جائے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کے استحصال کو “وسیع اور منظم” قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی نیا نظام ان مسائل کو دہرانے کے بجائے ان کا حل پیش کرے۔
دوسری جانب، آر رمانن نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے ساتھ لیبر مائیگریشن پر ہونے والی دوطرفہ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اے آئی پر مبنی یہ نیا نظام مڈل مین کے کردار کو کم کرے گا، بھرتی کے اخراجات میں کمی لائے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بھرتی کی مکمل لاگت آجر (کمپنی) برداشت کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں مزدوروں کے لیے “زیرو کاسٹ” بھرتی ممکن ہو سکے گی، جبکہ بنگلہ دیش نے بھی اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے نفاذ کی حمایت کی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث ہے کیونکہ ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کی بھرتی اور ان کے حقوق سے متعلق پالیسیوں پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور حکومت کی جانب سے نئے اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

COMMENTS