کاجانگ: ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے خبردار کیا ہے کہ سوشل وزٹ پاس یا سیاحتی ویزہ پر ملک میں داخل ہو کر کاروبار یا ملا...
کاجانگ: ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے خبردار کیا ہے کہ سوشل وزٹ پاس یا سیاحتی ویزہ پر ملک میں داخل ہو کر کاروبار یا ملازمت کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، اور ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا غیر ملکیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ ان کے پاس درست سفری دستاویزات جیسے پاسپورٹ اور منظور شدہ ویزہ موجود ہوں۔ تاہم، ہر ویزہ ایک مخصوص مقصد کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونا قانوناً جرم ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق، کچھ غیر ملکی افراد سوشل یا سیاحتی ویزہ پر ملک میں داخل ہوتے ہیں، لیکن بعد میں ملازمت اختیار کر لیتے ہیں یا کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض کیسز میں یہ افراد بڑے پیمانے پر کاروبار، حتیٰ کہ ریزورٹ تک چلا رہے ہوتے ہیں، اور بعض اوقات مقامی افراد کو بزنس پارٹنر بھی بنا لیتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کا عمل ویزہ کی شرائط کی خلاف ورزی ہے اور اسے "پاس کا غلط استعمال" تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بیان انہوں نے ملائیشیا بارڈر گارڈ 2026 اقدام کی تقریب کے موقع پر کاجانگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس مسئلے پر بھی تبصرہ کیا جس میں کچھ علاقوں، خصوصاً چانگلون، میں غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق، بعض مقامی افراد اور تاجروں نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی شہری ملک میں داخل ہونے کے بعد کچھ مخصوص علاقوں کو عبوری مقام کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور پھر دیگر شہروں جیسے کوالالمپور یا جوہر بہرو کا رخ کرتے ہیں۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ متعلقہ ادارے اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سرحدی کنٹرول اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف امیگریشن قوانین بلکہ قومی سلامتی اور معاشی نظم و ضبط سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے اس پر سنجیدگی سے توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ایجنسیز کے درمیان تعاون کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

COMMENTS