پوتراجایا: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے غیر ملکی ورکرز کی بھرتی، ویزا اجرا اور ملازمت سے متعلق جامع قواعد و ضوابط جاری کر رکھے ہیں، جن ...
پوتراجایا: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے غیر ملکی ورکرز کی بھرتی، ویزا اجرا اور ملازمت سے متعلق جامع قواعد و ضوابط جاری کر رکھے ہیں، جن کے تحت مختلف شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے عمر، صحت، دستاویزات اور قانونی شرائط کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، غیر ملکی ورکرز کو صرف مخصوص شعبوں جیسے مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زراعت، پلانٹیشن اور سروسز سیکٹر میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ ہر درخواست کو وزارت انسانی وسائل کے ون اسٹاپ سینٹر سے کوٹہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔
قواعد کے تحت غیر ملکی کارکنوں کی عمر 18 سے 45 سال کے درمیان ہونا لازمی ہے، جبکہ انہیں اپنے ملک میں منظور شدہ میڈیکل سینٹر سے صحت مند ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مزید برآں، ایسے افراد کو ملازمت نہیں دی جا سکتی جن کا نام امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت ممنوعہ فہرست (بلیک لسٹ) میں شامل ہو۔
حکام نے واضح کیا کہ غیر ملکی کارکنوں کا تعلق صرف منظور شدہ ممالک سے ہونا چاہیے، جن میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش، پاکستان، نیپال، بھارت، سری لنکا، ویتنام اور دیگر شامل ہیں۔ ہر ملک کے لیے مخصوص شرائط اور شعبہ جاتی اجازت بھی مقرر کی گئی ہے، جیسے فلپائن کی خواتین صرف گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔
درخواست کا طریقہ کار اور مراحل
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کا عمل دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں کارکنوں کو "ویزا ود ریفرنس" (وی ڈی آر) کے ذریعے مخصوص انٹری پوائنٹس سے ملک میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ آجر یہ یقینی بناتا ہے کہ کارکنوں کی کلیئرنس چھ گھنٹوں کے اندر مکمل ہو جائے۔
دوسرے مرحلے میں، کارکنوں کو 30 دن کے اندر فومیما سے منظور شدہ میڈیکل سینٹر میں طبی معائنہ کروانا لازمی ہوتا ہے۔ صحت مند قرار دیے جانے کے بعد ہی "وزٹ پاس ٹیمپریری ایمپلائمنٹ" (وی پی ٹی ای) جاری کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی کارکن طبی طور پر نااہل قرار پائے تو آجر کو اسے فوری طور پر واپس بھیجنا ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق، ملک میں داخلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر امیگریشن کلیئرنس مکمل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ وی پی ٹی ای صرف اسی دفتر سے جاری ہوتا ہے جہاں سے وی ڈی آر کی منظوری دی گئی ہو۔
مدت ملازمت اور توسیع کے قواعد
امیگریشن قوانین کے تحت غیر ملکی کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ 10 سال تک ملازمت کی اجازت ہے، تاہم بعض پروگرامز کے تحت یہ مدت محدود بھی ہو سکتی ہے۔ وی پی ٹی ای کی مدت ایک سال ہوتی ہے جس میں توسیع کے لیے درخواست مدت ختم ہونے سے تین ماہ قبل دینا ضروری ہوتا ہے۔
توسیع کے لیے کارکن کا پاسپورٹ کم از کم 12 ماہ کے لیے کارآمد ہونا چاہیے، جبکہ انشورنس، سیکیورٹی بانڈ، اور دیگر دستاویزات بھی جمع کروانا لازمی ہے۔ مختلف شعبوں کے لیے لیوی فیس بھی مقرر کی گئی ہے، جیسے مینوفیکچرنگ اور تعمیرات کے شعبے میں 1,850 رنگٹ تک فیس عائد کی گئی ہے۔
قانونی پابندیاں اور ذمہ داریاں
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی کارکن اپنے اہل خانہ کو ساتھ نہیں رکھ سکتے، نہ ہی ملازمت یا شعبہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی یا غیر ملکی شہری سے شادی کرنے پر بھی پابندی ہے۔
حکام کے مطابق، اگر کوئی کارکن ملازمت چھوڑ کر فرار ہو جائے تو اسے "ابسکانڈڈ" تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایسے کارکنوں کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا جبکہ ان کے سیکیورٹی بانڈ بھی ضبط کیے جائیں گے۔
پس منظر:
ملائیشیا میں غیر ملکی ورکرز کا کردار معیشت میں نہایت اہم ہے، خاص طور پر تعمیرات، زراعت اور سروسز کے شعبوں میں۔ تاہم غیر قانونی امیگریشن، جعلی دستاویزات اور مزدوروں کے استحصال کے واقعات کے باعث حکومت نے قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے ڈیجیٹل نظام اور سخت نگرانی کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

COMMENTS