ملائیشیا نے جوہر کازوے پر پیدل چلنے پر اپنی پابندی ایک بار پھر واضح کر دی ہے، جبکہ سنگاپور کی جانب سے اس معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آنے کے ب...
ملائیشیا نے جوہر کازوے پر پیدل چلنے پر اپنی پابندی ایک بار پھر واضح کر دی ہے، جبکہ سنگاپور کی جانب سے اس معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آنے کے باعث سرحد پار سفر کرنے والے افراد میں ابہام پیدا ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق 1.05 کلومیٹر طویل اس پل پر پیدل چلنا ملائیشیا کی جانب سے ممنوع ہے۔ ملائیشین ہائی وے اتھارٹی اور کنسیشن کمپنی پلس ملائشیا برہاد نے مشترکہ طور پر اس پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص نہ تو ملائیشیا سے سنگاپور اور نہ ہی سنگاپور سے ملائیشیا کی جانب پیدل سفر کر سکتا ہے۔
حکام نے اپنے بیان میں کہا، “جوہر کازوے پر پیدل چلنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔” ان کے مطابق اس پابندی کا مقصد سڑک پر موجود ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
ملائیشیا کے قوانین کے تحت ٹریفک سائنز کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 300 سے 2000 رنگٹ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ پابندی 2008 سے نافذ ہے، جب بنگنان سلطان اسکندر کسٹمز، امیگریشن اور قرنطینہ کمپلیکس فعال ہوا تھا۔
حالیہ دنوں میں اس پابندی کو مزید واضح کرنے کے لیے ایک نیا “پیدل چلنا منع ہے” کا سائن بھی نصب کیا گیا ہے، خاص طور پر ووڈ لینڈز چیک پوائنٹ کے قریب۔ اس سائن کے بعد پیدل چلنے والوں کو سڑک کے تنگ کنارے پر چلنا پڑتا ہے، جسے حکام خطرناک قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب سنگاپور کے امیگریشن اینڈ چیک پوائنٹس اتھارٹی نے کہا ہے کہ ان کی طرف سے پیدل چلنے کے حوالے سے کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ایک ترجمان کے مطابق، “سنگاپور کی جانب کازوے پر پیدل رسائی کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔”
اس صورتحال کے باعث دونوں ممالک کے درمیان پالیسی میں فرق سامنے آیا ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق روزانہ 3 لاکھ سے زائد ملائیشین شہری کام کے لیے سنگاپور جاتے ہیں، اور شدید ٹریفک کے باعث بعض افراد مجبوری میں پیدل چلنے کا انتخاب کرتے ہیں۔
ایک مسافر لو یونگ ٹٹ نے کہا کہ رش کے اوقات میں بسوں کی گنجائش کم پڑ جاتی ہے جس کے باعث طویل قطاریں اور شدید ٹریفک جام پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کئی بار لوگ چیک پوائنٹ پر پھنس جاتے ہیں جہاں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ واپس جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ پابندیوں اور نئے سائن کی تنصیب کی ایک وجہ پیدل چلنے والوں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات بھی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر کچھ مقامی رہنماؤں نے محفوظ پیدل راستہ بنانے کی تجویز بھی دی ہے۔
اس حوالے سے ایک مقامی رکن اسمبلی نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ مستقبل میں ایک محفوظ پیدل راستہ بنایا جائے تاکہ عوام کو بسوں اور ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے علاوہ ایک اور محفوظ آپشن مل سکے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال سرحدی پالیسیوں میں فرق اور ٹریفک کے مسائل کو ظاہر کرتی ہے، جس کے باعث عام مسافروں کو روزمرہ سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

COMMENTS