جوہر بہرو: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے اپریل 2026 کے تیسرے ہفتے کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 39 غیر ملکی قیدیوں کو ان کے آبائی ...
جوہر بہرو: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے اپریل 2026 کے تیسرے ہفتے کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 39 غیر ملکی قیدیوں کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا۔ یہ کارروائی ڈپو امیگریشن پیکن نیناس کے ذریعے عمل میں لائی گئی، جہاں زیر حراست افراد کو مرحلہ وار منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ملک بدر کیے جانے والوں میں 16 پاکستانی، 9 میانمار کے شہری، 5 نیپالی، 3 بھارتی، 2 سنگاپوری، 2 ویتنامی جبکہ ایک ایک سری لنکن اور انڈونیشی شہری شامل ہیں۔ تمام افراد کو مختلف راستوں کے ذریعے ان کے ممالک روانہ کیا گیا۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ قیدیوں کی واپسی کے لیے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سینائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سلطان اسکندر کمپلیکس اور سٹولانگ لاوت فیری ٹرمینل استعمال کیے گئے، جہاں سے انہیں فضائی اور بحری راستوں کے ذریعے بھیجا گیا۔
بیان کے مطابق، ان افراد کی واپسی کے اخراجات مختلف ذرائع سے پورے کیے گئے، جن میں قیدیوں کی ذاتی بچت، اہل خانہ کی مالی مدد اور بعض کیسز میں متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں کی جانب سے فراہم کردہ ٹکٹ شامل ہیں۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا کہ تمام ملک بدر کیے گئے افراد کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور انہیں مقررہ مدت تک کسی بھی مقصد کے لیے دوبارہ ملائیشیا میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق، قیدیوں کی منتقلی اور ملک بدری محکمہ امیگریشن ملائیشیا کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سزا مکمل کرنے والے غیر ملکی افراد ملک میں مزید قیام نہ کریں اور حراستی مراکز میں غیر ضروری دباؤ نہ بڑھے۔
مزید کہا گیا کہ پیکن نیناس امیگریشن ڈپو میں اس عمل کو باقاعدگی سے جاری رکھا جاتا ہے تاکہ زیر حراست افراد کی تعداد کو کنٹرول میں رکھا جا سکے اور انتظامی نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔
محکمہ نے یہ بھی واضح کیا کہ قیدیوں کی واپسی سے متعلق تمام انتظامات، بشمول ٹکٹ کی خریداری، ڈپو میں قائم سروس کاؤنٹر کے ذریعے انجام دیے جا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی اضافی سروس فیس وصول نہیں کی جاتی۔
مزید معلومات یا سوالات کے لیے شہریوں کو متعلقہ یونٹ سے براہ راست رابطہ کرنے یا آن لائن سسٹم کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

COMMENTS