لندو: ملائیشیا کے صوبہ سراواک میں محکمہ امیگریشن کی خصوصی ٹیم نے ایک اہم کارروائی کے دوران سرحدی علاقے بیاواک میں مہاجرین اسمگلنگ کے ایک منظ...
لندو: ملائیشیا کے صوبہ سراواک میں محکمہ امیگریشن کی خصوصی ٹیم نے ایک اہم کارروائی کے دوران سرحدی علاقے بیاواک میں مہاجرین اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 16 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔
محکمہ امیگریشن سراواک کے مطابق، یہ کارروائی “آپریشن سرکپ” کے تحت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر صبح کے وقت انجام دی گئی۔ حکام کو اطلاع ملی تھی کہ بیاواک، لندو کے سرحدی علاقے میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی نقل و حرکت جاری ہے، جس کے بعد فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
آپریشن میں پاسوکن ٹنڈاکن خاص کے 9 اہلکاروں نے حصہ لیا، جنہوں نے ایک سرکاری گاڑی اور چار نجی گاڑیوں کے ذریعے علاقے میں نگرانی کی۔ دورانِ آپریشن، ٹیم نے دو مشتبہ گاڑیوں کو جنگلاتی علاقے سے نکل کر مرکزی شاہراہ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا، جن پر فوری نظر رکھی گئی۔
حکام نے ان گاڑیوں کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں جالان بیاواک، لندو کے قریب لورونگ اوپیک 8 کے مقام پر روک کر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران مجموعی طور پر 16 غیر ملکی افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 12 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ تمام افراد غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے تھے اور ان کے پاس کوئی درست سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے انفورسمنٹ آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی دو گاڑیوں کو بھی ضبط کر لیا گیا ہے، جو اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں۔
حکام کے مطابق، اس کیس کی تحقیقات اینٹی ٹریفکنگ ان پرسنز اینڈ اینٹی اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ کی دفعہ 26 اے کے تحت جاری ہیں، جبکہ امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعات 5(1)، 6(1)(سی) اور 15(1)(سی) کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن سراواک نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں سرحدی جرائم کے خاتمے کے لیے ایسے آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیاواک جیسے سرحدی علاقے غیر قانونی نقل و حرکت کے لیے حساس سمجھے جاتے ہیں، جہاں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس غیر قانونی راستوں کا استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیا میں سرحدی علاقوں کے ذریعے انسانی اسمگلنگ ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک کے شہری بہتر روزگار یا غیر قانونی نقل مکانی کے لیے اسمگلرز کا سہارا لیتے ہیں۔ اس تناظر میں ملائیشیا کی امیگریشن فورسز کی جانب سے مسلسل کارروائیاں اس رجحان کو روکنے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہیں۔
حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS