جکارتہ: انڈونیشیا کے صوبہ لامپونگ کے علاقے لامپونگ تنگاہ میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک بزرگ خاتون کے انتقال کے بعد ان کے کپڑے س...
جکارتہ: انڈونیشیا کے صوبہ لامپونگ کے علاقے لامپونگ تنگاہ میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک بزرگ خاتون کے انتقال کے بعد ان کے کپڑے سے بڑی مقدار میں نقد رقم برآمد ہوئی، جس نے مقامی افراد کو حیرت میں ڈال دیا۔
تفصیلات کے مطابق، متوفیہ خاتون جن کی شناخت مبہ سائمہ کے نام سے ہوئی، ذہنی مسائل کا شکار تھیں اور علاقے میں گھوم پھر کر زندگی گزار رہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک دریا میں نہاتے ہوئے ڈوب گئیں، جس کے بعد مقامی افراد نے ان کی لاش نکالی۔
عینی شاہدین کے مطابق، متوفیہ کے پاس ایک کپڑا تھا جسے وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتی تھیں۔ واقعے کے بعد جب یہ کپڑا پانی میں بھیگ گیا اور اسے کھولا گیا تو اس میں سے بڑی مقدار میں نقد رقم برآمد ہوئی، جسے دیکھ کر وہاں موجود افراد حیران رہ گئے۔
مقامی شہری فیبی نے میڈیا کو بتایا، “جب ہم نے بھیگا ہوا کپڑا کھولا تو اس کے اندر سے بڑی تعداد میں نوٹ نکلے، جس پر سب لوگ دنگ رہ گئے۔” ان کے مطابق یہ رقم مختلف مالیت کے نوٹوں پر مشتمل تھی، جن میں 1,000، 2,000، 5,000، 10,000، 50,000 اور 100,000 انڈونیشین روپیہ کے نوٹ شامل تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد زمین پر بیٹھ کر ان نوٹوں کو گن رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مجموعی رقم لاکھوں نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ملینز (لاکھوں سے زائد) انڈونیشین روپیہ تک پہنچتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، یہ رقم دراصل ان عطیات پر مشتمل تھی جو متوفیہ کو علاقے میں گھومنے پھرنے کے دوران لوگوں کی جانب سے دی جاتی رہی۔ چونکہ وہ ایک جگہ مقیم نہیں تھیں، اس لیے وہ اپنی جمع پونجی اسی کپڑے میں محفوظ رکھتی تھیں۔
واقعے کے بعد مقامی حکام اور شہریوں نے مل کر لاش کو ضروری کارروائی کے بعد تدفین کے لیے منتقل کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں تاکہ رقم کی نوعیت اور اس کے ممکنہ ورثاء کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔

COMMENTS