پیتالنگ جایا: ملائشیا میں نجی روزگار ایجنسیوں کی نمائندگی کرنے والی تین بڑی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی ک...
پیتالنگ جایا: ملائشیا میں نجی روزگار ایجنسیوں کی نمائندگی کرنے والی تین بڑی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے مجوزہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے نفاذ کو فی الحال مؤخر کیا جائے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اہم اقدام سے قبل تمام متعلقہ فریقین سے جامع مشاورت ضروری ہے۔
متعلقہ تنظیموں میں ملائیشین ایسوسی ایشن آف ایمپلائمنٹ ایجنسیز، نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ ایمپلائمنٹ ایجنسیز، اور نیشنل ہیومن ریسورسز آرگنائزیشن شامل ہیں۔ یہ ادارے ایسے لائسنس یافتہ نجی روزگار اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں جو 1981 کے پرائیویٹ ایمپلائمنٹ ایجنسیز ایکٹ کے تحت کام کرتے ہیں۔
ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت کو اس پلیٹ فارم کی حمایت سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی اور مکمل مشاورت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، جلد بازی میں کیے گئے فیصلے نہ صرف موجودہ نظام کو متاثر کریں گے بلکہ کئی کاروباری اداروں کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے لائسنس یافتہ ایجنٹس کو بھرتی کے عمل سے باہر کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مالی مشکلات پیدا ہوں گی۔ بیان کے مطابق، زیادہ تر متاثر ہونے والے ادارے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ہیں، جو 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں قائم ہوئے اور اب بھی فعال ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر روایتی ایجنسیوں کا کردار ختم کیا گیا تو اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں کمی آئے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مجوزہ نظام کے تحت ممکنہ اضافی اخراجات بھی ایک اہم تشویش ہیں۔
تنظیموں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو شفاف اور اخلاقی بنانے کے حکومتی اقدام کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق اس عمل کو بتدریج نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر اخلاقی بھرتی کا نظام قائم کرنے میں تقریباً 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ “ہمیں افسوس ہے کہ اخلاقی بھرتی کے نام پر اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے قیام کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت نہیں کی گئی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قوانین پہلے ہی غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کو منظم کرنے کے لیے مؤثر ثابت ہوئے ہیں، اس لیے حکام کو چاہیے کہ وہ انہی قوانین کو بہتر انداز میں نافذ کریں بجائے اس کے کہ ایک نیا اور غیر آزمودہ نظام فوری طور پر متعارف کرایا جائے۔
تنظیموں کے مطابق، انہوں نے اس حوالے سے اپنی باقاعدہ مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے 8 اپریل کو مختلف وزارتوں کو خط بھی ارسال کیا ہے، جس میں اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شفافیت بڑھانے میں مددگار ہو سکتے ہیں، تاہم ان کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

COMMENTS