کوالالمپور: ملائشیا میں ملازمت کرنے والے افراد کے لیے ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 ایک بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جو ملازمین کے حقوق، فرائض...
کوالالمپور: ملائشیا میں ملازمت کرنے والے افراد کے لیے ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 ایک بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جو ملازمین کے حقوق، فرائض اور تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ تاہم ایک اہم سوال جو اکثر زیر بحث رہتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ قانون کن افراد پر لاگو ہوتا ہے اور کن پر نہیں۔
حالیہ برسوں میں اس قانون میں کی جانے والی ترامیم، خصوصاً 2022 کی اہم اصلاحات کے بعد، اس کے دائرہ کار میں نمایاں وسعت آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب زیادہ تر ملازمین اس قانون کے تحت آ چکے ہیں، جبکہ پہلے اس کی حدود کافی محدود تھیں۔
ماہرین کے مطابق، ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 بنیادی طور پر ان افراد پر لاگو ہوتا ہے جو کسی کمپنی یا آجر کے تحت کام کرتے ہیں، باقاعدہ تنخواہ یا اجرت وصول کرتے ہیں، اور ایک باقاعدہ “ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ” کے تحت ملازمت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس میں فل ٹائم اور کچھ صورتوں میں پارٹ ٹائم ملازمین بھی شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ قانونی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔
ماضی میں اس قانون کی ایک بڑی شرط یہ تھی کہ صرف وہ ملازمین مکمل تحفظ کے حقدار ہوتے تھے جن کی ماہانہ تنخواہ 4000 رنگٹ یا اس سے کم ہو۔ اس حد کی وجہ سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازمین اس قانون کے کئی فوائد سے محروم رہتے تھے۔
تاہم، 2022 میں کی گئی ترامیم نے اس تصور کو بدل کر رکھ دیا۔ اب یہ قانون تقریباً تمام ملازمین پر لاگو ہوتا ہے، چاہے ان کی تنخواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب 4000 رنگٹ یا اس سے زیادہ تنخواہ لینے والے افراد بھی قانونی تحفظ کے دائرے میں آتے ہیں۔
اس کے باوجود، کچھ مخصوص فوائد جیسے اوورٹائم، آرام کے اوقات، یا دیگر مراعات اب بھی مخصوص شرائط اور ملازم کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ یعنی قانون کا بنیادی تحفظ تو سب کو حاصل ہے، لیکن تمام سہولیات یکساں نہیں ہوتیں۔
خصوصی طور پر، ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 کے تحت بعض ملازمین کو زیادہ تحفظ دیا گیا ہے۔ ان میں دستی مزدور (مینول ورکر)، لیبر ورکرز، اور بعض صورتوں میں گھریلو ملازمین (ڈومیسٹک ورکر) شامل ہیں۔ یہ وہ طبقات ہیں جو عموماً زیادہ خطرات یا غیر یقینی حالات میں کام کرتے ہیں، اس لیے قانون انہیں اضافی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اس حوالے سے ایک سادہ مثال دی جاتی ہے: اگر ایک ملازم علی ہے جس کی تنخواہ 2500 رنگٹ ہے اور دوسرا احمد ہے جس کی تنخواہ 7000 رنگٹ ہے، تو پرانے قانون کے مطابق صرف علی مکمل طور پر اس ایکٹ کے تحت آتا تھا۔ لیکن نئی ترامیم کے بعد دونوں اس قانون کے دائرہ کار میں شامل ہیں، البتہ اوورٹائم جیسے فوائد میں فرق ہو سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک عام غلط فہمی یہ بھی ہے کہ زیادہ تنخواہ لینے والے ملازمین پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا، جو کہ اب درست نہیں۔ نئی اصلاحات کے بعد یہ تصور ختم ہو چکا ہے اور اب زیادہ تر ملازمین کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔
مزید برآں، اس قانون کا مقصد نہ صرف ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے بلکہ آجر اور ملازم کے درمیان ایک متوازن اور منصفانہ تعلق قائم کرنا بھی ہے۔ اسی لیے حکومت وقتاً فوقتاً اس میں ترامیم کرتی رہتی ہے تاکہ بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی حالات کے مطابق اسے بہتر بنایا جا سکے۔
اگلے آرٹیکل (پارٹ 3) میں ہم بات کریں گے:
یہ قانون کن علاقوں پر لاگو ہوتا ہے؟ کیا صباح اور سراواک میں بھی یہی قانون ہے؟

COMMENTS