کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پولیس کا روپ دھار کر ڈکیتی کرنے والے ایک خطرناک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفت...
کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پولیس کا روپ دھار کر ڈکیتی کرنے والے ایک خطرناک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں ایک معطل پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ظاہر کر کے غیر ملکی شہریوں کے گھروں کو نشانہ بناتا تھا، خاص طور پر کیپونگ کے علاقے میں سرگرم تھا۔
کوالالمپور پولیس کے سربراہ فاضل مرسوس نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پولیس کو سینتول کے علاقے میں مسلح ڈکیتی اور سرکاری اہلکار بن کر کارروائی کرنے کے تین مختلف کیسز کی شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد ایک خصوصی آپریشن کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں چین اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن کی عمریں 29 سے 52 سال کے درمیان ہیں۔ یہ وارداتیں صبح 5:30 بجے سے 7:30 بجے کے درمیان ہوئیں، جب ملزمان نے گھروں میں گھس کر قیمتی سامان لوٹ لیا۔
تحقیقات کے نتیجے میں 31 سے 51 سال کی عمر کے چھ مقامی افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے جسے منشیات کے مقدمے میں معطل کیا گیا تھا اور وہ اس گروہ کا مرکزی رابطہ کار بتایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ دو ملزمان پرائیویٹ باڈی گارڈ تھے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے اسلحہ لائسنس کا غلط استعمال کیا۔
پولیس کے مطابق اس گروہ کا طریقہ واردات انتہائی منظم تھا، جہاں پہلے ایسے افراد کو نشانہ بنایا جاتا تھا جن کے پاس قیمتی اثاثے ہونے کی معلومات حاصل کی جاتی تھیں، اس کے بعد خود کو پولیس ظاہر کر کے گھروں میں داخل ہو کر ڈکیتی کی جاتی تھی۔
تین وارداتوں میں ملزمان ٹویوٹا الفرڈ، رولز رائس اور بنٹلے سمیت تین لگژری گاڑیاں لے گئے، جبکہ ایک سیف، 24,200 رنگٹ نقد، 1,200 امریکی ڈالر، زیورات اور دو سونے کی اینٹیں بھی لوٹ لی گئیں۔ مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریباً 4.4 ملین رنگٹ لگایا گیا ہے۔
پولیس نے کارروائی کے دوران تمام چھینی گئی گاڑیاں برآمد کر لیں، اس کے علاوہ دو پستول، پانچ دیگر گاڑیاں، 13,056 رنگٹ نقد، مختلف غیر ملکی کرنسی، آٹھ موبائل فونز اور دو سیکیورٹی پاس بھی قبضے میں لیے گئے۔
تمام ملزمان کو سات روزہ ریمانڈ پر لیا گیا ہے، جبکہ ایک ملزم کے ٹیسٹ میں امفیٹامین منشیات کا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ گروہ دیگر جرائم میں بھی ملوث رہا ہے یا نہیں۔
یہ کیس تعزیراتِ ملائیشیا کی دفعات 395، 397 اور 170 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو مسلح ڈکیتی اور سرکاری اہلکار کی نقالی جیسے سنگین جرائم سے متعلق ہیں۔
اسی پریس کانفرنس میں فاضل مرسوس نے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تین افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے انسداد بدعنوانی کمیشن کے سربراہ کی تقریر میں خلل ڈالا۔ یہ واقعہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کوالالمپور میں پیش آیا، جہاں ایک علمی پروگرام کے دوران نعرے بازی اور مداخلت کی گئی۔
پولیس کے مطابق ان افراد کے خلاف سرکاری کام میں مداخلت، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی داخلے کے الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

COMMENTS