اسلام آباد: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے ایک بڑے اور منظم کرمنل نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم پیش رفت حاصل کر ...
اسلام آباد: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے ایک بڑے اور منظم کرمنل نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے، جو غیر ملکی شہریوں کو جعلی پاکستانی شناختی دستاویزات اور پاسپورٹس فراہم کر کے بیرونِ ملک غیر قانونی طور پر بھجوانے میں ملوث تھا۔
تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک خاص طور پر غیر ملکی افراد کو جعلی دستاویزات کے ذریعے سعودی عرب بھجوانے میں سرگرم تھا۔ اس منظم گروہ میں مختلف سطحوں پر سہولت کار شامل تھے، جو شناختی کارڈز کی تیاری، پاسپورٹس کا اجرا، ویزا پروسیسنگ اور بیرونِ ملک روانگی تک مکمل چین چلا رہے تھے۔
حکام کے مطابق اس کیس میں ایف آئی آر نمبر 333/2025 کے تحت ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو نیٹ ورک کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اب تک تین اہم ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران انسانی اسمگلر مدیر خان ولد شہزاد کو بھی حراست میں لیا گیا، جو پہلے سے ایک مقدمے میں اشتہاری تھا۔
چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں جعلی مواد برآمد کیا گیا، جس میں 60 جعلی قومی شناختی کارڈز، 12 جعلی پاسپورٹس، دستی رجسٹرز، جعلی گزٹڈ آفیسر کی مہر اور جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اہم دستاویز بھی برآمد ہوئی، جس کے مطابق افغان شہریوں کو جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے بیرونِ ملک بھجوانے کے لیے 3 کروڑ 29 لاکھ روپے کا معاہدہ طے پایا تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جعلی دستاویزات خاص طور پر افغان شہریوں کے لیے تیار کیے جا رہے تھے، تاکہ انہیں پاکستانی پاسپورٹس کے ذریعے ورک یا ملازمت کے ویزوں پر بیرونِ ملک بھیجا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے دستاویزات میں ٹیمپرنگ اور جعلسازی کی جاتی تھی تاکہ امیگریشن سسٹم کو دھوکہ دیا جا سکے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق درجنوں غیر ملکی افراد کے ڈیٹا کے تجزیے سے مزید سہولت کاروں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ سینکڑوں دیگر افراد کے ریکارڈ کی جانچ جاری ہے۔ بڑی تعداد میں پاسپورٹس اور دیگر دستاویزات کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ نیٹ ورک کی مکمل ساخت اور اس کے تمام روابط کو سامنے لایا جا سکے۔
مزید برآں، اس کیس میں مالیاتی لین دین اور بین الاقوامی روابط کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔ حکام اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس نیٹ ورک کا تعلق کسی قسم کی دہشت گردی کی مالی معاونت سے تو نہیں، کیونکہ اس نوعیت کی سرگرمیاں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور جعلی دستاویزات کے ذریعے غیر قانونی نقل و حرکت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
پاکستان میں انسانی اسمگلنگ اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے خلاف مختلف ادارے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم ایسے منظم نیٹ ورکس کی موجودگی اس مسئلے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لیے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ متعلقہ سسٹمز کی بہتری بھی ضروری سمجھی جاتی ہے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

COMMENTS