کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی شریک حیات کو ایک اہم مگر نظر انداز شدہ ہنر مند افرادی قوت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں موجودہ قوانین کے باعث ا...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی شریک حیات کو ایک اہم مگر نظر انداز شدہ ہنر مند افرادی قوت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں موجودہ قوانین کے باعث ان کے لیے ملازمت حاصل کرنا مشکل بنا ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملائیشیا میں غیر ملکی شریک حیات کو “لانگ ٹرم سوشل وزٹ پاس” کے تحت پانچ سال تک رہائش کی اجازت تو دی جاتی ہے، تاہم اس کے تحت براہِ راست ملازمت کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس پاس پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ کسی بھی قسم کی ملازمت ممنوع ہے۔
اگر کوئی فرد کام کرنا چاہے تو اسے علیحدہ اجازت (اینڈورسمنٹ) حاصل کرنا ہوتی ہے، جس کے لیے ملائیشین شریک حیات کی موجودگی، مخصوص دستاویزات اور ایک خاص آجر (کمپنی) کے ساتھ منظوری ضروری ہوتی ہے۔ ملازمت تبدیل کرنے یا کسی اور ریاست میں منتقل ہونے کی صورت میں یہ مکمل عمل دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں 161,531 ایسے پاس جاری کیے گئے۔ ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جو پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں، مگر موجودہ نظام کی پیچیدگیوں کے باعث اپنی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر پاتے۔
سال 2020 سے 2024 کے درمیان صرف 11 فیصد غیر ملکی شریک حیات نے ورک پرمٹ کے لیے درخواست دی۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ دلچسپی کی کمی نہیں بلکہ نظام کی پیچیدگی ہے۔ 2021 کے ایک سروے میں بتایا گیا کہ ایک تہائی سے زائد افراد کو صرف پاسپورٹ پر موجود ملازمت کی پابندی کی وجہ سے کمپنیوں نے ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔
یہ صورتحال صرف روزگار تک محدود نہیں بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ چونکہ کام کرنے کا حق شادی سے مشروط ہے، اس لیے اگر ازدواجی تعلق ختم ہو جائے تو متاثرہ فرد اپنی ملازمت، ویزا اور ملک میں رہنے کا حق بھی کھو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر گھریلو تشدد کا شکار افراد کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔
پس منظر کے طور پر بتایا جاتا ہے کہ یہ نظام اس وقت بنایا گیا تھا جب بین الاقوامی شادیاں کم تھیں اور اس کا مقصد صرف رہائش فراہم کرنا تھا، نہ کہ معاشی شمولیت۔ تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے۔ 2019 سے 2025 کے درمیان 55,000 سے زائد غیر مسلم ملائیشین شہریوں نے غیر ملکی افراد سے شادیاں کیں، جس کے باعث اس نظام کا اثر ہزاروں افراد کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔
مزید برآں، 2026 میں متعارف ہونے والی نئی ایمپلائمنٹ پاس اصلاحات کے تحت غیر ملکی ملازمین کے لیے تنخواہ کی حد بڑھائی گئی ہے، جس سے کمپنیوں کے لیے غیر ملکی کارکن رکھنا مزید مہنگا اور پیچیدہ ہو جائے گا۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شریک حیات ایک آسان اور دستیاب ہنر مند افرادی قوت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس مسئلے کا حل پیچیدہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمت کی اجازت کو ایک مخصوص آجر یا ریاست سے منسلک کرنے کے بجائے اسے زیادہ آزاد بنایا جائے، اور درخواست کے عمل کو آسان کیا جائے۔ اس کے علاوہ شادی ختم ہونے کی صورت میں بھی افراد کو محدود مدت کے لیے رہائش اور ملازمت کا حق دیا جانا چاہیے۔
انسانی حقوق کے حوالے سے بھی اس مسئلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ قوانین بظاہر سب کے لیے یکساں ہیں، لیکن عملی طور پر اس کا اثر زیادہ تر خواتین پر پڑتا ہے۔ ملائیشیا نے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے عالمی معاہدے کی توثیق کر رکھی ہے، جس کے تحت روزگار میں برابری یقینی بنانا لازم ہے۔

COMMENTS