کلانگ: ملائیشیا کے شہر کلانگ میں ایک سپر مارکیٹ سے خواتین کی جانب سے قیمتی کاسمیٹکس چوری کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا ...
کلانگ: ملائیشیا کے شہر کلانگ میں ایک سپر مارکیٹ سے خواتین کی جانب سے قیمتی کاسمیٹکس چوری کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ بندر بکیت ٹنگی کی ایک سپر مارکیٹ میں پیش آیا جہاں دو غیر ملکی خواتین کو انتہائی بے فکری سے سامان چوری کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں خواتین دکان کے اندر گھومتے ہوئے مختلف کاسمیٹکس مصنوعات اپنے ہینڈ بیگز میں ڈال رہی ہیں۔
جنوبی کلانگ کے ضلعی پولیس سربراہ اسسٹنٹ کمشنر لم جٹ ہیوی نے بتایا کہ اس واقعے کی رپورٹ ایک 31 سالہ مقامی خاتون نے درج کروائی، جس کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ واردات گزشتہ روز شام تقریباً 5 بجے پیش آئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چوری ہونے والے کاسمیٹکس کی مجموعی مالیت تقریباً 1,263 ملائیشین رنگٹ ہے۔ واقعے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اس معاملے میں فوجداری کارروائی شروع کر دی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر لم جٹ ہیوی نے مزید کہا کہ اس کیس کو ملائیشیا کے تعزیراتی قانون کے تحت سیکشن 380 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو عمارت کے اندر چوری سے متعلق ہے۔ اس قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کے ساتھ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی کے پاس اس واقعے سے متعلق کوئی معلومات موجود ہیں تو وہ قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں یا جنوبی کلانگ پولیس ہیڈکوارٹر کے فراہم کردہ نمبر پر اطلاع دیں تاکہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں امیگریشن اور پولیس کی جانب سے مشترکہ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جن میں غیر قانونی تارکین وطن اور جرائم پیشہ عناصر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف کاروباروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرتی سطح پر عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے حکام کی جانب سے سخت قانونی کارروائی اور عوامی تعاون کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے بھی اس کیس کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے بعد پولیس پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرے اور انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

COMMENTS