کلانگ: محکمہ رجسٹریشن (جے پی این) کی جانب سے کیے گئے آپریشن "اوپس روڈا" کے دوران ایک موٹرسائیکل فیکٹری میں کام کرنے والے 46 غیر م...
کلانگ: محکمہ رجسٹریشن (جے پی این) کی جانب سے کیے گئے آپریشن "اوپس روڈا" کے دوران ایک موٹرسائیکل فیکٹری میں کام کرنے والے 46 غیر ملکی افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جو مبینہ طور پر جعلی یا دوسروں کے مائی کارڈ استعمال کر کے ملازمت حاصل کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق، یہ کارروائی صنعتی علاقے بکِت راجا میں کی گئی جہاں زیرِ حراست افراد کی عمریں 20 سے 45 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گرفتار افراد میں اکثریت انڈونیشیا اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔
چھاپے کے دوران کئی افراد نے اعتراف کیا کہ وہ دوسروں کے شناختی کارڈ استعمال کر رہے تھے، جبکہ بعض کے پاس جعلی مائی کارڈ بھی برآمد ہوئے۔ ایک 23 سالہ انڈونیشین خاتون، فائزہ نے بتایا کہ اس نے اپنے کزن کے دوست کا شناختی کارڈ استعمال کر کے ملازمت حاصل کی کیونکہ دونوں کی شکل کافی حد تک ملتی جلتی تھی۔
اس نے مزید بتایا کہ وہ تقریباً چھ ماہ سے مذکورہ فیکٹری میں کام کر رہی تھی جبکہ اس سے قبل وہ پرندوں کے گھونسلوں کے کاروبار سے وابستہ تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ 2023 میں سیاحت کے مقصد سے ملائیشیا آئی تھی لیکن بعد ازاں ملازمت ملنے پر وہیں رک گئی۔
اسی طرح ایک 21 سالہ نوجوان اسمان نے انکشاف کیا کہ اس نے ایک جعلی مائی کارڈ 500 رنگٹ میں خریدا تھا تاکہ وہ غیر قانونی طور پر ملازمت حاصل کر سکے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی گزر بسر کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا اور حکام سے بچنے کے لیے اس طریقہ کار کو اختیار کیا۔
محکمہ رجسٹریشن کے ڈائریکٹر انفورسمنٹ، مظہد عبدالعزیز کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ آجران (کمپنی مالکان) کی غفلت ہے، جو ملازمین کی درست جانچ پڑتال نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد نے ملازمت حاصل کرنے کے بعد اصل شناختی کارڈ واپس مالکان کو دے دیے، جبکہ آجران نے بھی ایجنٹس پر اندھا اعتماد کیا اور شناخت کی تصدیق نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیکٹری انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ براہِ راست غیر ملکی کارکنان کو ملازمت نہیں دیتی بلکہ انہیں ایجنٹس کے ذریعے افرادی قوت فراہم کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے نگرانی میں کمی واقع ہوئی۔
حکام کے مطابق تمام گرفتار افراد کو نیشنل رجسٹریشن ریگولیشنز 1990 کی دفعہ 25(1)(ای) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ اس معاملے میں ملوث ایجنٹس کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مزید کارروائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ آجران کے خلاف قانونی اقدامات کا فیصلہ محکمہ لیبر اور امیگریشن حکام کریں گے، جو اپنے دائرہ اختیار کے تحت کیس کی مزید چھان بین کریں گے۔
یہ واقعہ ملائیشیا میں غیر قانونی مزدوری اور شناختی دستاویزات کے غلط استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے خلاف حکام مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

COMMENTS