جارج ٹاؤن: پینانگ کے وزیر اعلیٰ چو کون یو نے کہا ہے کہ جورو کے علاقے میں مجوزہ 32 منزلہ غیر ملکی مزدوروں کے ہاسٹل کا منصوبہ مقامی رہائشیوں ...
جارج ٹاؤن: پینانگ کے وزیر اعلیٰ چو کون یو نے کہا ہے کہ جورو کے علاقے میں مجوزہ 32 منزلہ غیر ملکی مزدوروں کے ہاسٹل کا منصوبہ مقامی رہائشیوں کے اعتراضات کے باوجود ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر ایک اجلاس کے دوران تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک مقامی رہائشیوں کی آراء سنتے رہے۔ اس اجلاس میں سماجی اثرات کے جائزے کے لیے مقرر کردہ کنسلٹنٹ بھی موجود تھا، جو رہائشیوں اور دیگر متعلقہ فریقین کی تجاویز، تنقید اور خدشات کو مدنظر رکھے گا۔
چو کون یو کے مطابق، یہ منصوبہ نہ صرف عوامی توجہ کا مرکز بنا بلکہ اس پر اعتراضات بھی سامنے آئے کیونکہ کچھ رہائشی اپنے علاقے میں غیر ملکی مزدوروں کی رہائش کے منصوبے کے حق میں نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں جاری سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے ایسے منصوبے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے جس کے نتیجے میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کارکنوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، اور ان کارکنوں کے لیے مناسب رہائش فراہم کرنا ایک عملی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، یہی موجودہ صورتحال کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
یہ منصوبہ نومبر 2024 سے مقامی رہائشیوں کی ایک کمیٹی کی جانب سے مخالفت کا سامنا کر رہا ہے۔ کمیٹی نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اس منصوبے سے علاقے میں سیکیورٹی مسائل، ٹریفک کا دباؤ، معیارِ زندگی میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین واحد عثمان نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر ڈیولپر اور ریاستی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاسوں میں شرکت کی ہے، جن میں ایک فوکس گروپ ڈسکشن اور گزشتہ سال دسمبر میں کومٹار میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹریفک امپیکٹ اسسمنٹ کی منظوری دی جا چکی ہے، لیکن اسے محض تکنیکی پہلو سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک جامع سماجی اثرات کے جائزے کی ضرورت ہے جو کمیونٹی پر مجموعی اثرات، آبادی کے دباؤ اور عوامی سہولیات پر بوجھ جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھے۔
واحد عثمان کے مطابق، 2024 سے اب تک رہائشیوں کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف 20 یادداشتیں جمع کروائی جا چکی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ معاملہ کمیونٹی سطح پر مسلسل زیر بحث ہے اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو شامل کیا جائے گا تاکہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل تمام خدشات کو مناسب طور پر دیکھا جا سکے۔

COMMENTS