کوالالمپور: سابق وزیرِاعظم ڈاکٹر مہاتیر بن محمد نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو جنگ کی حقیقی تصویر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ہتھیاروں کے باو...
کوالالمپور: سابق وزیرِاعظم ڈاکٹر مہاتیر بن محمد نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو جنگ کی حقیقی تصویر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ہتھیاروں کے باوجود انسانی تکالیف کم نہیں ہوئیں بلکہ کئی پہلوؤں سے مزید سنگین ہو گئی ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ ایک ایسی مثال بن چکا ہے جہاں ایک خوبصورت اور ترقی یافتہ شہر مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو گیا۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر ہونے والی بمباری نے عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا، جس کے نیچے ہزاروں افراد دب گئے۔ ان میں سے بعض زندہ بھی تھے لیکن مسلسل حملوں کے باعث انہیں نکالنا ممکن نہ رہا، اور وہ شدید تکلیف کے بعد جان کی بازی ہار گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمارتوں کے گرنے سے بچ جانے والے افراد بھی شدید زخمی ہوئے، تاہم صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ طبی سہولیات ختم ہونے کے باعث زخمیوں کا علاج ممکن نہ رہا اور بستر پر پڑے مریض دم توڑتے گئے۔
ڈاکٹر مہاتیر کے مطابق بہت سے افراد کے ہاتھ اور ٹانگیں شدید زخمی ہوئیں جن کے لیے فوری آپریشن ضروری تھا، مگر نہ تو سہولیات موجود تھیں اور نہ ہی مناسب جگہ۔ بعض کیسز میں اعضا کی کٹائی بغیر بے ہوشی کی دوا کے کی گئی، جو انسانی تاریخ کے دردناک ترین مناظر میں شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر بچوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں بچے ایسے ہیں جو اپنے اعضا کھو چکے ہیں اور انہیں زندگی بھر معذوری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق یہ بچے مستقبل سے محروم ہو چکے ہیں، جو ایک انتہائی سنگین انسانی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلسل بمباری اور راکٹ حملوں کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ آگ بھی بھڑک اٹھی جسے بجھانا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ماحولیاتی تبدیلی سے بھی جوڑا اور کہا کہ بڑے پیمانے پر آگ اور دھواں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کچھ وقت کے لیے حملے رکے تو زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کی گئی، تاہم ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری موجود نہیں تھی۔ ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کی کوششیں ناکافی ثابت ہوئیں کیونکہ کنکریٹ کا وزن بہت زیادہ تھا۔
مزید برآں، شہر کے مکمل طور پر تباہ ہونے کے بعد بچ جانے والے افراد کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہ رہی۔ انہوں نے خیمے لگا کر عارضی بستیاں قائم کیں جہاں ہزاروں افراد بغیر پانی اور بجلی کے رہنے پر مجبور ہو گئے۔
سردیوں کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو گئی جب ہیٹنگ کی سہولت نہ ہونے کے باعث بوڑھے، کمزور اور بیمار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے باوجود جنگ کا سلسلہ جاری رہا اور خیمہ بستیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے مزید جانی نقصان ہوا۔
ڈاکٹر مہاتیر نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے نتائج بالآخر مذاکرات سے بھی حاصل کیے جا سکتے تھے، اور اس پورے عمل میں غیر ضروری طور پر انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی کو اس طرح کی تکلیف اور موت کا سامنا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امدادی فنڈز اور طبی سامان کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ خوراک کی قلت پیدا ہوئی، لوگ بھوک سے مرنے لگے اور آلودہ پانی پینے سے مختلف بیماریاں پھیل گئیں۔
یہ بیان عالمی سطح پر جاری تنازعات کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، خاص طور پر بچوں اور کمزور طبقات کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

COMMENTS