پیتالنگ جایا: حکومت کی جانب سے غیر ملکی ورکرز کے بھرتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا اقدام غیر قانونی ایجنٹس کے کردار کو محدود کرنے میں مددگار...
پیتالنگ جایا: حکومت کی جانب سے غیر ملکی ورکرز کے بھرتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا اقدام غیر قانونی ایجنٹس کے کردار کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کاروباری برادری نے اس پیش رفت کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
ملے چیمبر آف کامرس ملائیشیا (ڈی پی ایم ایم) کے صدر نورسیاہرین حمیدون نے کہا ہے کہ انسانی وسائل کی وزارت کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیا نظام صنعت کی ضروریات کے مطابق ہے اور اس سے بھرتی کے عمل میں شفافیت آئے گی۔ ان کے مطابق یہ نظام زیادہ منظم، آسان اور مرکزی نوعیت کا ہوگا، جس سے بیرونِ ملک سے کارکنوں کی بھرتی کا عمل بہتر بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام موجودہ نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو کم کرنے میں مدد دے گا، جہاں غیر اخلاقی طریقوں اور غیر قانونی ایجنٹس کا کردار کافی عرصے سے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے ذریعے ایسے عناصر کی گنجائش کم ہو جائے گی جو آجرین اور غیر ملکی کارکنوں دونوں کا استحصال کرتے ہیں۔
نورسیاہرین حمیدون کے مطابق، یہ نظام نہ صرف بھرتی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنائے گا بلکہ اس سے کاروباری شعبے کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک شفاف اور مرکزی نظام صنعت کے لیے طویل مدتی استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، انسانی وسائل کی وزارت اس نظام کے عملی نفاذ کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق، اس حوالے سے تفصیلی میکانزم تیار کیا جا رہا ہے تاکہ اس کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل غیر ملکی ورکرز کی بھرتی میں مڈل مین یا ایجنٹس کے کردار پر تنقید کی جاتی رہی ہے، جن پر اضافی فیس وصول کرنے اور غیر شفاف طریقہ کار اپنانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ حکومت کا یہ اقدام اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد بھرتی کے عمل کو براہ راست اور منظم بنانا ہے۔
کاروباری گروپ نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے، تاکہ اس نظام کو کامیابی سے نافذ کیا جا سکے اور اس کے فوائد زیادہ سے زیادہ حاصل کیے جا سکیں۔

COMMENTS