ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک خصوصی آپریشن کے دوران 10 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ایک حاضر سروس امیگریشن افسر بھی شامل ہے۔ یہ کارروا...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک خصوصی آپریشن کے دوران 10 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ایک حاضر سروس امیگریشن افسر بھی شامل ہے۔ یہ کارروائی کمپلیکس امیگریشن، کسٹم، قرنطینہ اور سیکیورٹی بکیت کایو ہتام کے علاقے میں کی گئی۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن 25 اپریل کو دوپہر 12:50 بجے شروع ہوا، جس میں امیگریشن ہیڈکوارٹر پوتراجایا کے انٹیلیجنس اور اسپیشل آپریشن یونٹ کے افسران نے کداح اسٹیٹ امیگریشن اور بارڈر کنٹرول ایجنسی کے تعاون سے حصہ لیا۔ کارروائی ایک ماہ کی خفیہ معلومات اور عوامی شکایات کی بنیاد پر کی گئی۔
آپریشن کے دوران ایک مقامی شہری اور ایک تھائی شہری کو گرفتار کیا گیا، جنہیں مبینہ طور پر “ایجنٹ” قرار دیا جا رہا ہے جو غیر ملکی افراد کی غیر قانونی نقل و حرکت کو منظم کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور مقامی شخص کو “ٹرانسپورٹر” کے طور پر گرفتار کیا گیا، جو غیر قانونی طور پر افراد کو سرحد پار کروانے میں مدد فراہم کرتا تھا۔
حکام نے مزید بتایا کہ پانچ بھارتی شہریوں اور ایک پاکستانی شہری کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان کے علاوہ ایک سینئر امیگریشن افسر کو بھی گرفتار کیا گیا، جس پر الزام ہے کہ وہ اس نیٹ ورک میں “سہولت کار” کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس طرح مجموعی طور پر 10 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار بھارتی شہریوں میں سے ایک بلیک لسٹ میں شامل تھا، جبکہ ایک پاکستانی شہری کے پاس مبینہ طور پر جعلی ای ویزا تھا۔ دیگر غیر ملکی افراد کو “غیر قانونی تارکین وطن” قرار دیا گیا ہے۔
چھاپے کے دوران حکام نے مختلف اشیاء بھی ضبط کیں، جن میں 5 بھارتی پاسپورٹ، ایک پاکستانی پاسپورٹ، بارڈر پاسز، امیگریشن سیکیورٹی اسٹیمپ، 12 موبائل فونز، اور 30,000 بھارتی روپے نقد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نسان سینٹرا کار اور دو موٹر سائیکلیں بھی قبضے میں لی گئیں، جنہیں اس سرگرمی میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس گروہ کا طریقہ کار منظم تھا، جس کے تحت غیر ملکی شہریوں، خصوصاً بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد کو تھائی لینڈ کے راستے زمینی سرحد سے ملائیشیا میں داخل کیا جاتا تھا۔ ایجنٹس ان افراد کی آمد کا وقت طے کرتے جبکہ ٹرانسپورٹر انہیں ٹیکسی ڈرائیور کے روپ میں سرحد تک پہنچاتے تھے تاکہ حکام کی نظروں سے بچا جا سکے۔
مزید انکشاف ہوا کہ امیگریشن کے اندر موجود مبینہ سہولت کار اہلکار غیر قانونی طور پر پاسپورٹس پر انٹری کی مہر لگا دیتا تھا، چاہے متعلقہ افراد داخلے کی شرائط پوری نہ کرتے ہوں۔ اس غیر قانونی سرگرمی کے بدلے فی فرد 1000 رنگٹ وصول کیے جاتے تھے، جن میں سے 400 رنگٹ مبینہ طور پر متعلقہ اہلکار کو دیے جاتے تھے۔
حکام کے مطابق یہ گروہ سال کے آغاز سے سرگرم تھا اور اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 4.1 ملین رنگٹ کا نقصان پہنچا۔
قانونی کارروائی کے تحت دو مقامی افراد اور ایک تھائی شہری کو انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل سے متعلق قوانین 2007 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ دیگر ملزمان پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے کداح امیگریشن دفتر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ چار مقامی افراد کو تحقیقات میں مدد کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی فرد یا اہلکار کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ملک کی سلامتی اور سرحدی نظام کو محفوظ بنایا جا سکے۔

COMMENTS