جوہر بہرو: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک کارروائی کے دوران 22 غیر ملکی شہریوں کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں پر حراست میں لے لیا۔ یہ کارر...
جوہر بہرو: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک کارروائی کے دوران 22 غیر ملکی شہریوں کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں پر حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی گزشتہ جمعہ کی رات شہر کے مختلف علاقوں میں کی گئی۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق یہ آپریشن “اوپ سیلرا” اور “اوپ ساپو” کے نام سے کیا گیا، جس کا آغاز رات 10 بجے ہوا۔ کارروائی میں کاروباری مراکز اور رہائشی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، خاص طور پر وہ جگہیں جہاں ٹوم یم کھانے کی تیاری کی جاتی ہے اور جہاں غیر قانونی غیر ملکیوں کے موجود ہونے کی اطلاعات تھیں۔
جوہر امیگریشن کے ڈائریکٹر داتوک محمد رسدی محمد داروس نے بتایا کہ کارروائی عوامی معلومات اور خفیہ ذرائع کی بنیاد پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد میں تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین شامل ہیں، جبکہ میانمار کی تین خواتین بھی حراست میں لی گئی ہیں۔ ان تمام افراد کی عمریں 18 سے 52 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق زیر حراست افراد میں سے کچھ ان مقامات پر ملازمت کرتے تھے جبکہ بعض کو گاہک یا رہائشی کے طور پر پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افراد درست سفری یا رہائشی دستاویزات کے بغیر مقیم تھے۔
محکمہ امیگریشن نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ تمام افراد کو مزید تفتیش کے لیے سیٹیا ٹروپیکا امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسی دوران حکام نے چار فارم 29 بھی جاری کیے، جو گواہوں کو طلب کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ تحقیقات کے عمل میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
یہ کارروائی ملائیشیا میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت حکام مختلف شہروں میں ایسے آپریشنز کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد نہ صرف قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے بلکہ عوامی تحفظ کو برقرار رکھنا بھی ہے۔
محکمہ امیگریشن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بغیر دستاویزات کے غیر ملکیوں کو ملازمت دینا یا پناہ فراہم کرنا قانون کے خلاف ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے معاملات کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
حکام کے مطابق آئندہ بھی اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور ملکی قوانین پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS