جباتن امیگریسن ملائیشیا نے غیر ملکی کارکنوں سے متعلق جعلی دستاویزات اور ڈیٹا میں رد و بدل کرنے والے ایک منظم گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے...
جباتن امیگریسن ملائیشیا نے غیر ملکی کارکنوں سے متعلق جعلی دستاویزات اور ڈیٹا میں رد و بدل کرنے والے ایک منظم گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی “اوپس سرکاپ” کے تحت کی گئی، جس میں ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن کا بھی تعاون شامل تھا۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن خفیہ معلومات اور مسلسل نگرانی کے بعد ترتیب دیا گیا، جس کا مقصد امیگریشن نظام میں جعلسازی کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔ کارروائی کے دوران ریاست سیلانگور کے علاقوں سیلایانگ اور دیسا پیتالنگ میں واقع دو رہائشی مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ گروہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اصل دستاویزات جیسے ای پاس میں تبدیلیاں کر کے جعلی اسٹیکرز تیار کرتا تھا، جنہیں دیگر افراد استعمال کر کے حکام کو دھوکہ دیتے تھے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کی غیر قانونی آمد و قیام کو قانونی ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نیٹ ورک نے شادی کے رجسٹریشن سے متعلق دستاویزات، میڈیکل رپورٹس اور دیگر کاغذات بھی تیار کیے، جنہیں امیگریشن اور ملیشیا ڈیجیٹل اکانومی کارپوریشن کے ساتھ درخواستوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق یہ سرگرمیاں تقریباً دو سال سے کم عرصے سے منظم انداز میں جاری تھیں۔
چھاپوں کے دوران پولیس اور امیگریشن ٹیم نے متعدد اشیاء ضبط کیں، جن میں 11 مختلف ممالک کے پاسپورٹس، 15 آئی کارڈز، پانچ ڈیجیٹل ڈیوائسز، پانچ موبائل فونز اور ایک پرنٹر شامل ہے۔ یہ تمام اشیاء ممکنہ طور پر جعلسازی کے عمل میں استعمال ہو رہی تھیں۔
کارروائی کے دوران تین افراد کو گرفتار کیا گیا جن کی عمریں 35 سے 45 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں ایک خاتون اور دو مرد شامل ہیں، اور تینوں کا تعلق سری لنکا سے بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید تحقیقات کے لیے ایک گواہ کو طلبی نوٹس (فارم 29) بھی جاری کیا گیا ہے۔
گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹ ایکٹ 1966، امیگریشن ریگولیشنز 1963 اور اینٹی ٹریفکنگ ان پرسنز اینڈ اینٹی اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2007 کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکیوں سے متعلق ڈیٹا اور دستاویزات میں جعلسازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ انہیں پناہ دینے، ملازمت فراہم کرنے یا سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اس نوعیت کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی، تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور نظام کی شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

COMMENTS