لنگکاوی: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن ریاست کداح کی جانب سے افسران کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے “کورسس پینجوروسن ایم...
لنگکاوی: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن ریاست کداح کی جانب سے افسران کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے “کورسس پینجوروسن ایموسی اینڈ اسٹریس سیری 1” کا انعقاد کیا گیا، جس میں 40 افسران نے شرکت کی۔
یہ تربیتی پروگرام لنگکاوی میں وزارت داخلہ کے کمپلیکس کے ٹریننگ ہال میں منعقد ہوا، جس کا مقصد امیگریشن افسران کو ذہنی دباؤ سے نمٹنے، جذباتی توازن برقرار رکھنے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں ادا کرنے کے لیے عملی مہارتیں فراہم کرنا تھا۔
حکام کے مطابق، کورس میں شریک افسران کو مختلف جدید تکنیکوں سے آگاہ کیا گیا، جن میں اسٹریس مینجمنٹ، جذباتی کنٹرول، خود اعتمادی میں اضافہ اور کام کے دوران مثبت رویہ اپنانے جیسے اہم پہلو شامل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ افسران کو ذاتی زندگی، خاندانی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی بھی تربیت دی گئی۔
کورس کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افسران اکثر ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسے تربیتی پروگرام نہ صرف انفرادی سطح پر بہتری لاتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ادارے کی کارکردگی کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
یہ کورس دو تجربہ کار ٹرینرز، نور سازلی بن منصور اور محمد حفیظل بن شہارالدین، کی زیر نگرانی منعقد ہوا، جو لیبمباگا پینڈودوک دان پمبنگونن کلوارگا نگارا (ایل پی پی کے این) سے وابستہ ہیں۔ دونوں ماہرین نے عملی مثالوں، گروپ ایکٹیویٹیز اور انٹرایکٹو سیشنز کے ذریعے شرکاء کو مؤثر انداز میں تربیت فراہم کی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پروگرامز سے نہ صرف افسران کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ ان میں کام سے دلچسپی، ٹیم ورک اور ادارے سے وابستگی بھی بڑھتی ہے۔ مزید برآں، اس سے عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔
پس منظر کے طور پر، حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں سرکاری ملازمین کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے کام کے دباؤ، عوامی توقعات اور مسلسل بدلتی ہوئی ذمہ داریوں نے اس مسئلے کو اہم بنا دیا ہے۔ ملائیشیا میں بھی حکومت مختلف اداروں کے ذریعے ایسے اقدامات کر رہی ہے تاکہ سرکاری افسران کو بہتر اور صحت مند ورکنگ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
حکام نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ امیگریشن افسران کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے اور وہ بہتر کارکردگی کے ساتھ عوامی خدمات انجام دے سکیں۔

COMMENTS