پاہانگ: ملائیشیا کے صوبہ پاہانگ میں امیگریشن حکام نے ایک مشترکہ انسپکشن اور نفاذی کارروائی کے دوران 16 غیر ملکی افراد کو حراست میں لے لیا۔ ی...
پاہانگ: ملائیشیا کے صوبہ پاہانگ میں امیگریشن حکام نے ایک مشترکہ انسپکشن اور نفاذی کارروائی کے دوران 16 غیر ملکی افراد کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی ضلع پیکان اور کوانتان کے مختلف مقامات پر کی گئی جہاں غیر قانونی طور پر مقیم یا کام کرنے والے افراد کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔
حکام کے مطابق، اس آپریشن میں ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن کے اہلکاروں کی دو ٹیمیں شامل تھیں، جن میں مجموعی طور پر 19 افسران نے حصہ لیا۔ ٹیموں نے مختلف مشتبہ مقامات پر چھاپے مارے اور ان افراد کی جانچ پڑتال کی جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے شبہ میں تھے۔
کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 92 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ان میں سے 16 افراد کو مختلف خلاف ورزیوں کے تحت حراست میں لیا گیا، جن میں غیر قانونی قیام اور بغیر اجازت کام کرنا شامل ہے۔ حکام نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
گرفتار افراد کو 14 روزہ ریمانڈ پر امیگریشن ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت رکھا گیا ہے اور انہیں مزید تفتیش کے لیے کیمایان امیگریشن ڈیپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، اس دوران ان کے دستاویزات اور قانونی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا اور امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
محکمہ امیگریشن نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر حکام کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
حکام کے مطابق، نہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد بلکہ ان کو ملازمت فراہم کرنے والے یا پناہ دینے والے افراد کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حوالے سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا میں حالیہ عرصے کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس کا مقصد ملکی سیکیورٹی اور لیبر مارکیٹ کو بہتر بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی تاکہ قانون کی بالادستی برقرار رکھی جا سکے۔

COMMENTS