کوتا کنابالو: محکمہ امیگریشن ملائیشیا، صباح نے شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں جاری مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 55 غیر ملکیوں کو...
کوتا کنابالو: محکمہ امیگریشن ملائیشیا، صباح نے شہر اور اس
کے نواحی علاقوں میں جاری مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 55 غیر ملکیوں کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔ یہ کارروائیاں مختلف آپریشنز کے تحت کی گئیں جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف قانون نافذ کرنا اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق "اوپس گیگار" کے تحت 114 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس کارروائی میں 22 فلپائنی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں 12 بالغ مرد اور 10 بالغ خواتین شامل ہیں۔ ان افراد کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت حراست میں لیا گیا، جو بغیر درست دستاویزات کے ملک میں داخل ہونے یا قیام سے متعلق ہے۔
اسی طرح "اوپس سیلرا" اور "اوپس کُتیپ" کے نام سے کی جانے والی الگ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 120 افراد کی جانچ کی گئی۔ ان میں سے 11 فلپائنی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں 2 بالغ مرد اور 9 بالغ خواتین شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان افراد کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں یا وہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔
مزید ایک کارروائی "اوپس ساپو" کے تحت کی گئی، جس میں 49 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس آپریشن کے دوران 22 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں 2 بالغ مرد، 7 بالغ خواتین، 6 کم عمر لڑکے اور 7 کم عمر لڑکیاں شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کم عمر بچوں کو بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق حفاظتی تحویل میں لیا گیا اور ان کے معاملات متعلقہ قوانین کے تحت نمٹائے جائیں گے۔
اگر مجموعی اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو تینوں آپریشنز میں کل 283 افراد کی جانچ کی گئی، جن میں سے 55 غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا۔ تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے امیگریشن ڈیپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر کیس کی الگ الگ بنیاد پر جانچ جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی مکمل کی جائے گی۔
محکمہ امیگریشن صباح نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں وقتاً فوقتاً جاری رکھی جائیں گی تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ ادارے کے مطابق ان آپریشنز کا مقصد صرف قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے اور یہ کارروائیاں دستیاب معلومات اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جاتی ہیں۔
حکام نے مزید کہا کہ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ امیگریشن قوانین کی پاسداری کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف قانون کی عملداری بہتر ہوتی ہے بلکہ معاشرتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

COMMENTS