کوالالمپور: ملائیشیا میں منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں تقریباً 15 سال سزائے موت کی قید کاٹنے والی ایک انڈونیشین خاتون کو معافی ملنے کے بعد اپن...
کوالالمپور: ملائیشیا میں منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں تقریباً 15 سال سزائے موت کی قید کاٹنے والی ایک انڈونیشین خاتون کو معافی ملنے کے بعد اپنے وطن واپس پہنچا دیا گیا۔ 66 سالہ خاتون، جن کا اصل نام آسیہ بتایا جاتا ہے، 2 اپریل کو کوالالمپور سے جکارتہ پہنچی۔
رپورٹس کے مطابق آسیہ کو 2011 میں ایک خاتون نے ملازمت کا جھانسہ دے کر ملائیشیا لے پہنچایا تھا۔ اس دوران ان کے پاسپورٹ پر ان کی معلومات تبدیل کر دی گئیں اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اصل نام کا استعمال نہ کریں۔ بعد ازاں انہیں ویتنام سے ایک بیگ لا کر ملائیشیا پہنچانے کا کہا گیا، تاہم 21 جون 2011 کو پینانگ ایئرپورٹ پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق بیگ سے 3.87 کلو گرام میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی، جس کے بعد 2012 میں ملائیشین عدالت نے انہیں خطرناک منشیات ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی۔ یہ کیس بعد میں انسانی حقوق کے گروپس کی توجہ کا مرکز بنا، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ آسیہ کو دھوکے سے اس کام میں استعمال کیا گیا۔
ملائیشیا میں سزائے موت کے خلاف کام کرنے والی تنظیم "حیات" اور جکارتہ کی لیگل ایڈ تنظیم کے مطابق یہ کیس صرف منشیات اسمگلنگ کا نہیں بلکہ انسانی اسمگلنگ اور استحصال کی ایک مثال ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ آسیہ جیسے کئی افراد کو جعلی ملازمتوں کے وعدوں کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کیا جاتا ہے۔
آسیہ نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا کہ وہ دوبارہ اپنے خاندان سے مل رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ ایک خواب جیسا محسوس ہو رہا ہے اور وہ اس پر شکر گزار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قید کے دوران آسیہ کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بیماری بھی شامل ہے۔ انہیں رحم کے کینسر کا علاج کروانا پڑا اور ایک آپریشن بھی ہوا۔
یہ رہائی اس وقت سامنے آئی ہے جب ملائیشیا نے 2023 میں لازمی سزائے موت کے قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے عدالتوں کو سزا کے تعین میں اختیار دیا۔ اس کے بعد سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اس وقت بھی کم از کم آٹھ انڈونیشین خواتین ملائیشیا میں قید ہیں، جن کی سزائے موت کو کم کیا جا چکا ہے۔ ان خواتین کا تعلق عموماً غریب خاندانوں سے ہوتا ہے اور انہیں ملازمت یا دیگر وعدوں کے ذریعے اس طرح کے نیٹ ورکس میں شامل کیا جاتا ہے۔

COMMENTS