ٹوکیو: جاپان نے اپنے فوڈ سروسز شعبے میں نئے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی عارضی طور پر روک دی ہے، کیونکہ حکومت کے مقررہ کوٹے کے قریب پہنچنے کی و...
ٹوکیو: جاپان نے اپنے فوڈ سروسز شعبے میں نئے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی عارضی طور پر روک دی ہے، کیونکہ حکومت کے مقررہ کوٹے کے قریب پہنچنے کی وجہ سے اس پروگرام کو محدود کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ 13 اپریل 2026 سے نافذ کیا گیا۔
یہ اقدام حکومت کے “سپیسی فائیڈ سکلڈ ورکر پروگرام” کے تحت کیا گیا ہے، جس کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں کو ان شعبوں میں کام کی اجازت دی جاتی ہے جہاں مقامی سطح پر افرادی قوت کی کمی ہے، جیسے کہ ریسٹورنٹس، تعمیرات، زراعت اور نرسنگ کیئر۔
حکام کے مطابق فوڈ سروسز کے شعبے کے لیے پانچ سالہ مدت (2028 تک) میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی کارکنوں کی حد مقرر کی گئی تھی۔ فروری 2026 کے اختتام تک اس پروگرام کے تحت تقریباً 46 ہزار افراد کو ملازمت دی جا چکی ہے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ حد آئندہ ماہ تک مکمل ہو سکتی ہے۔
کاروباری حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار لیبر مارکیٹ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ریسٹورنٹس اور فوڈ انڈسٹری میں افرادی قوت کی کمی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹوکیو میں قائم ایک ریسٹورنٹ کے مالک نارتسوکا شاکر خان نے کہا کہ اس فیصلے سے کاروبار چلانا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، “کھانا پیش کرنے کے لیے ماہر عملہ ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر باورچی ہمارے لیے سب سے اہم ہیں۔”
اسی طرح دیگر ریسٹورنٹس نے بھی اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک جنوبی کوریائی ریسٹورنٹ کے مینیجر لی کی-یونگ نے بتایا کہ نئی بھرتیوں میں پہلے ہی مشکلات تھیں، اور اب مزید پابندیوں سے صورتحال پیچیدہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ملازمت دینے پر اوقات کار کی پابندیاں بھی ایک اضافی مسئلہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے اثرات صرف ریسٹورنٹس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر متعلقہ شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ غیر ملکی کارکنوں کو جاپان بھیجنے والی ایجنسیوں کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں فوڈ سروسز سیکٹر میں طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یونکو کونو، جو میانمار سے کارکنوں کو جاپان بھیجنے والی ایک ایجنسی سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ ان کی کمپنی اب تک تقریباً ایک ہزار کارکن بھیج چکی ہے، جن میں سے زیادہ تر نرسنگ سیکٹر میں تھے، تاہم گزشتہ دو سالوں میں ریسٹورنٹ سیکٹر میں طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
دیہی علاقوں میں اس پالیسی کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں، جہاں آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور مقامی افرادی قوت محدود ہے۔ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ یکساں کوٹہ پالیسی شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق کو نظر انداز کرتی ہے۔
گیفو پریفیکچر میں ایک ریسٹورنٹ آپریٹر ہیروکی اریسو نے کہا کہ دیہی علاقوں کی بحالی کے لیے زیادہ افرادی قوت درکار ہے، اور حکومت کو اس حوالے سے مختلف علاقوں کے لیے الگ پالیسی بنانی چاہیے۔
جاپان میں بڑھتی عمر کی آبادی اور کم شرح پیدائش کے باعث معیشت کو سہارا دینے کے لیے غیر ملکی کارکنوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام تک ملک میں غیر ملکی رہائشیوں کی تعداد 4 ملین سے تجاوز کر گئی، جبکہ اکتوبر 2025 تک غیر ملکی کارکنوں کی تعداد 2.57 ملین کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
ماہرین اور کارکن تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے قبل متعلقہ شعبوں سے مزید مشاورت کی جانی چاہیے تھی تاکہ پالیسی کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ امیگریشن پالیسیوں کا مزید جائزہ لے رہی ہے۔

COMMENTS