جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائڈو میں بڑھتی ہوئی لیبر کی کمی کے باعث مقامی حکام نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ایک ح...
جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائڈو میں بڑھتی ہوئی لیبر کی کمی کے باعث مقامی حکام نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، ہوکائڈو سمیت جاپان کے 20 صوبوں نے مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ بیرونِ ملک سے افرادی قوت حاصل کی جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان میں مجموعی طور پر غیر ملکی کارکنوں کی تعداد اکتوبر 2025 تک تقریباً 2.57 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم، ان میں سے تقریباً 40 فیصد کارکن دارالحکومت ٹوکیو اور اس کے نواحی علاقوں میں مرکوز ہیں، جس کے باعث دیگر صوبوں، خاص طور پر ہوکائڈو جیسے دور دراز علاقوں کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
غیر ملکی معاہدے اور شعبہ جات
حکام کے مطابق، جاپان کے مختلف صوبوں نے جنوب مشرقی ایشیا، بھارت اور نیپال جیسے ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔ ان معاہدوں کا مقصد نہ صرف کارکنوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ انہیں مناسب کام کے حالات، رہائش اور معلوماتی سہولتیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
ان غیر ملکی کارکنوں کی طلب خاص طور پر تین اہم شعبوں میں زیادہ ہے:
زراعت
نگہداشت (نرسنگ کیئر)
سیاحت
یہ وہ شعبے ہیں جہاں مقامی آبادی کی کمی اور عمر رسیدہ معاشرے کے باعث افرادی قوت کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
جاپان کی معیشت اور لیبر بحران
جاپان کو دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں آبادی کی شرح نمو کم اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کو لیبر کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود، جاپان کی معیشت میں کچھ مثبت اشارے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
مثال کے طور پر، جاپان کی بڑی کمپنی ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے مالی سال 2025 میں ریکارڈ فروخت کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح، جاپان کا معروف اسٹاک انڈیکس نیکئی 225 23 اپریل 2026 کو پہلی بار 60,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا، جو معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
علاقائی عدم توازن ایک بڑا مسئلہ
اگرچہ مجموعی طور پر غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ان کی جغرافیائی تقسیم ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ٹوکیو اور بڑے شہری مراکز میں زیادہ مواقع ہونے کے باعث زیادہ تر غیر ملکی وہیں کام کرنا پسند کرتے ہیں، جبکہ ہوکائڈو جیسے علاقوں میں لیبر کی کمی برقرار رہتی ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مقامی حکومتیں نہ صرف بیرون ملک معاہدے کر رہی ہیں بلکہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہیں تاکہ وہ ان علاقوں میں کام کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔
پس منظر اور اہمیت
جاپان میں لیبر کی کمی کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر بحث ہے۔ کم شرح پیدائش، بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور نوجوان افرادی قوت کی کمی نے حکومت کو غیر ملکی کارکنوں پر انحصار بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔
ہوکائڈو جیسے علاقوں میں، جہاں زراعت اور سیاحت معیشت کے اہم ستون ہیں، افرادی قوت کی کمی براہ راست پیداوار اور خدمات پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کو ایک عملی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے بہتر پالیسی، شفاف نظام اور سہولتوں کی فراہمی اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی سطح پر بھی افرادی قوت کو برقرار رکھنے اور نئی نسل کو مختلف شعبوں میں راغب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

COMMENTS